پشاور (رپورٹ: بیورو چیف اصغر شاہ) پشاور میں کورونا وائرس کے آتے ہی مہنگائی عروج پر پہنچ گئی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آٹا پھر 1200 روپے کی بوری ہوگئی، چینی مہنگی، گھی مہنگا، دالیں مہنگی، حکومت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اوپر سے دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں دکانیں کھولنے میں ہفتے لگیں گے۔ سرکاری ملازمین، وزیراعظم، ایم این اے، ایم پی اے وغیرہ تنخواہیں لے رہے ہیں چاہے وہ آفس جائیں یا نہیں۔ جو غریب دیہاڑی والے لوگ ہیں وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے۔ ایک تو غریب کے منہ سے نوالہ کھینچ لیا ہے اوپر مہنگائی بھی کر دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے 3000 روپے ماہوار دینے کا علان کیا ہے ان پر ان غریبوں کا گزارہ کہاں ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے خود فرمایا تھا کہ میرا 2 لاکھ میں گزارا نہیں ہوتا۔ جب انکا گزارا نہیں ہوتا تو پھر غریب لوگوں کا 3000 روپے پر کیسے گزارہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم غریبوں پر ترس کھائیں اور مہنگائی کنٹرول کریں۔
![]()