اسلام آباد ( بیورو رپورٹ) این سی ایچ ڈی اساتذہ کا 14 سالوں سےریگیولر نہ ہونے کے خلاف آج پانچویں روز بھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے دھرنا جاری رکھا دھرنے میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کو یقینی بنایا جبکہ وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی نے نوٹس لیتے ہوئے این سی ایچ اساتذہ کی 6 روکنی کمیٹی کو مذاکرات کےلئے بلا لیا- اساتذہ کے مرکزی رہنما خان محمد ملاح، حافظ خدا بخش انڈھڑ، غلام مصطفی لنڈ، شاھین کاکڑ ،شاھد علی راہموں اور عبدالرحمن نے وزیر مملکت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ہم این سی ایچ ڈی اساتذہ کو نان ڈولپمینٹ پروگرام میں پرموٹ کرکے سرکاری مراعاتیں دے کر سروس اسٹرکچر بنایا جائے اور بقایاجات تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں اور آئندہ بھی ہر ماہ ٹائم پر لیبر لاء پالیسی کےتحت ادا کی جائیں جبکہ وزیر مملکت داخلہ شہریار خان آفریدی نے اساتذہ کی مرکزی کمیٹی کو یقین دلایا کہ 15 اکتوبر پیر کے دن وزیر خزانہ اسد عمر سےمیٹنگ کر کے تنخواہ کی فوری طور پر ادائیگی کروانےکے بعد سب کمیٹی اور وزیراعظم سےمشورہ کرکے ایک بار پھر آپ کےساتھ میٹنگ کرکے اساتذہ مسئلے کو قانونی دائرے کے مطابق حل کرنےکےلئے اقدام اٹھائے جائینگے جبکہ اساتذہ کی مرکزی کمیٹی نے وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کو بتایہ کہ جب تک ہمارے مطالبات حل نہیں ہوتے ہمارا احتجاجی دھرنا جاری رہیگا-
![]()