راجن پور (رپورٹ: قاضی انعام باری) اسلام انسان کو تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کا درس دیتا ہے جہاں اسلام نے انسان کو حقوق عطا کیے وہیں بے حیائی، فحاشی و عریانی کا بھی سد باب کیا مگر آج پاکستان میں نام نہاد لوگ فحاشی و عریانی پھیلانے کیلئے مختلف حیلوں و بہانوں سے کوششیں کررہے ہیں لیکن عورت کی عزت و مقام صرف پردہ و حیاء میں ہی ہے عدالتوں کی قدر کرتے ہیں مگر اسلامی معاملات پر وہ بھی شریعت کونسل یا جید علماء کرام سے ہی رائے لیکر اپنے احکامات جاری فرمائیں تاکہ مذہبی طبقات کی دل آزاری نہ ہو ان خیالات کا اظہار نائب ناظم اتحاد اہل سنت والجماعت پنجاب و تحصیل امیر مولانا مفتی ارشاد احمد حقانی، ضلعی امیر اتحاد اہل سنت والجماعت و سٹی امیر جے یو آئی مفتی محمد عمر خان گورمانی، امیر اتحاد اہل سنت والجماعت تحصیل جام پور مولانا قاضی انعام باری، امیر جمعیت علماء اسلام تحصیل روجھان مولانا محمد شریف و دیگر نے دورہ جام پور کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجب کام ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا آ ج اسی میں اسلام کو غیر محفوظ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں حدیث مبارکہ میں حیاء کو ایمان کا ایک شعبہ کہا گیا ہے جب سے بے حیائی، فحاشی و عریانی کو پھیلانے والے نبی اکرم ؐ کے فرمودات عالیشان کو پس پشت ڈال کر پتہ نہیں ہمیں کیا باور کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور حکومت میں ہم طرح طرح کے بیرونی ہتھکنڈوں و جال میں آتے جارہے ہیں کبھی حج فارم سے ختم نبوت کا اقرار نکالا جا رہا ہے، کبھی قادیانیوں کو مسلمان قرارد دینے کی سازشیں رچائی جا رہی ہیں اور کبھی مدارس و علماء کو کفار، یہود و ہنود اور سامراجی طاقتوں کے ایماء پر نشانہ بنا یا جا رہا ہے مگر علماء نے ہر دور کی طرح اس دور میں کبھی اس سازشوں کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے۔ اس موقع پر مولانا طاہر القاسمی، مولانا خلیل الرحمن، ابرار حسین، حافظ محمد یعقوب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
![]()