کوالالمپور (رپورٹ: عامر وقاص چوہدری) انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے دباؤ کے نتیجے میں ملائیشیا کے وزیر قانون داتو لیو ووئی نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ سزائے موت پر پابندی کیلئے قانون اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 15 اکتوبر کو ہونے والے اگلے پارلیمانی اجلاس میں یہ بل پیش کردیا جائے گا۔ اس وقت تک تمام قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے- ان کیلئے دیگر مناسب سزائیں متعارف کرائی جائیں گی جن میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہوگی۔ ملائیشیا میں قتل، اغوا، ملک سے بغاوت اور منشیات فروشی کی خرید و فروخت کے جرائم میں سزائے موت کا قانون ہے۔ تاہم اب حکومت کسی بھی طرح کے جرم میں سزائے موت ختم کردے گی اور ان کی جگہ دیگر سزائیں دی جائیں گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک سال میں ملائیشیا میں 416 غیر ملکیوں سمیت 799 قیدیوں کو منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت سنائی گئی۔ حال ہی میں ایک آسٹریلوی خاتون ماریا ایکسپوستو کو بھی منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت سنائی گئی ہے اور ملائیشیا پر ماریا ایکسپوستو کو معاف کرنے اور رہائی کیلئے آسٹریلوی حکومت سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا دباؤ ہے۔
![]()