کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ شہر میں آر او پلانٹ لگائے جائیں گے اور چھ پلوں کا افتتاح ہوگا، صنعتوں کو درپیش پانی کی قلت کا مسئلہ کے فور ہی کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔ صنعتوں سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کاٹٰی کے صدر شیخ عمر ریحان، سینیٹر عبدالحسیب خان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، سینئر نائب صدر اکرام راجپوت، مسعود نقی، سید واجد حسین، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے ہمیشہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے تاہم عملی سطح پر اقدامات حوصلہ افزا اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو پیداواری لاگت میں اضافے، پانی اور گیس کی قلت اور انفرااسٹرکچر کی تباہ حالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی نے تحریک انصاف کو تاریخی مینڈیٹ دیا اور ہم وزیر اعظم سے اس شہر کو ویسی ہی توجہ دینے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی سہولت کے لیے انہیں گیس، پانی اور بجلی کی فراہمی کا خصوصی نظام تشکیل دیا جائے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے، ملک کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے انڈسٹرلائزیشن کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر عبدالحسیب خان کا کہنا تھا ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور خاص طور پر صنعت کے پانچ بڑے سیکٹرز کو زیرو ریٹ کی سہولت فراہم کرنا ہوگا، صنعتیں بڑھیں گی تب ھی ٹیکس وصولی کے اہداف بھی پورے ہوں گے۔ کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے پبلک ریلیشن کے چیئرمین اکرام راجپوت کاکہنا تھا کہ کراچی نے جتنا غیر معمولی مینڈٰیٹ تحریک انصاف کو دیا، اسے ویسی توجہ حاصل نہیں ہوسکی۔ بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو صنعتوں کے مسائل کا ادراک ہے اور جلد ہی آپ سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ کے فور کے بغیر حل نہیں ہوسکتا، بہت جلد کراچی میں 100 آر او پلانٹ لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی سطح پر ٹاسک فورس کا قیام کردیا جائے گا اور اس میں بزنس کمیونٹی اور صنعتکاروں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اداروں کے حالات بہت خراب ہیں تاہم ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
![]()