لاہور (سپورٹس ڈیسک) پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر شافع حسین نے کہا ہے کہ کبڈی کھیل کو پاکستان میں وہ مقام حاصل نہیں تھا۔عالمی کبڈی کے انعقاد پر شائقین کھیل کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اب سٹیڈیم بنانا ضروری ہوگیا ہے۔ جس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔دوسری جانب سیکرٹری جنرل فیڈریشن کا کہنا تھا کہ چوہدری فیملی کے شوق اور بے لوث خدمات کی وجہ سے پاکستان میں کبڈی کا کھیل زندہ ہے۔ اور ہم عالمی کپ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم جدید دور کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اپنا مارکیٹنگ ونگ بنائیں گے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا حکومت ہاکی، کرکٹ میں عالمی کپ جیتنے پر مالی انعام اور پلاٹ دیتی ہے ان کی حکومت سے درخواست ہے کہ پاکستان کا سر فخر سے بلند کرنے والے ان کھلاڑیوں کے لئے بھی حکومت اعلان کرے۔ یاد رہے کہ لاہور پریس کلب نے قومی ٹیم کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں کھلاڑیوں میڈل اور آفیشلز میں شیلڈ تقسیم کی گئیں۔ اور میٹ دا پریس میں سوال جواب بھی ہوئے۔ اس موقعہ پر کپتان عرفان مانا نے کہا وہ پاکستان فیڈریشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ لڑکوں پر اعتماد کیا پاکستان کی جیت لڑکوں کی محنت اور قوم کی دعاؤں سے ممکن ہوئی، فائنل میں پلاننگ کے ساتھ گئے جس کا فائدہ ہوا فیڈریشن کے صدر چوہدری شافع حسین نے سوال کے جواب میں کہا پہلی بار ورلڈ کپ ہوا اندازہ نہیں تھا اتنا کراؤڈ آئے گا۔ پاکستان میں کبڈی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ آج کبڈی ورلڈ کپ سے ہر پاکستانی کبڈی کو جانتا ہے پاکستان میں پہلی بار کبڈی ورلڈ کپ سے لوگوں کا اتنا رسپانس آیا ہے۔ عوام کی اتنی دلچسپی کو دیکھ کر یقیناً سٹیڈیم بنائے گے۔ شفیق چشتی نے کہا بھارت میں علی کے آنسو تھے۔ اس بار جیت پر وہ وقت یاد آیا تو خوشی کے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ پاکستان کی جیت سے بھارت میں کیا گیا چیلنج پورا ہوا۔ پاکستان کی جیت کی وجہ سے جذباتی ہوگیا تھا۔ سیکریڑی جنرل رانا سرور نےکہا چوہدری فیملی نہ ہوتی تو کبڈی کو اتنا فروغ نہ ملتا۔ آج پاکستان کبڈی جہاں بھی ہے اس کی وجہ چوہدری فیملی سے ہے۔ بھارت نے ورلڈ کپ کے فائنل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ٹی وی ایمپائر ایک سردار ہی تھا جس کا تعلق بھارت سے ہی تھا بھارت نے بارہا ریوو لیے لیکن انہوں نے حق بات کی ٹی وی ایمپائر انہی میں سے تھا پھر بھی فیصلوں پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔
![]()