کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔اس ملک کو قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر قائدین کی قیادت میں طلبہ اور نوجوانوں نے بنایا تھا۔ علیگڑھ مسلم کالج کے طلبہ قائداعظم کے حکم پر بر صغیر کے چپے چپے میں پھیل گئے تھے اور تحریک پاکستان کو منظم کیا تھا جس کے نتیجے میں ملک وجود میں آیا۔ اب سیاسی قیادت بانجھ ہو چکی ہے۔اس صورت حال سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں۔ طلبہ کو اپنے مسائل کے حل کے لئے اور ملکی سیاست کے مشاہدے اور مطالعے کے لئے یونین سازی کا حق دیا جائے تاکہ طلبہ کو اپنے مسائل کے حل، غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ اور ملک کو تعمیر و ترقی کے نئے دور سے ہمکنار کرنے کے لئے باصلاحیت، وژن رکھنے والی، کرپشن سے پاک اور نئی قیادت میسر آسکے جو عوام کو درپیش مسائل اور چیلنجز با آسانی حل کر سکے۔ پاسبان عام آدمی کو ہمت و جرات اور حوصلہ دے کر اسمبلیوں میں بھیجنا چاہتی ہے۔ وہ گذشتہ شب پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ میں کورنگی سے آئے ہوئے پاسبان یوتھ ونگ کے عہدیداروں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاسبان کراچی کے جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار بھی موجود تھے۔ یوتھ ونگ کے عہدیداروں میں ضلع کورنگی کے آرگنائزر ملک شاہزین، ڈپٹی آرگنائزر فصیح الدین شریف، فیصل مہمند، معاذ مہمند اور دیگر شامل تھے۔ الطاف شکور نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، متحدہ قومی موومنٹ اور اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں نے طلبہ کی یونین سازی کے حق کو تسلیم کیا ہے لیکن ان سیاسی جماعتوں اور بیوروکریسی میں موجود وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی، نوجوان قیادت سے چونکہ خائف ہے اس لئے طلبہ یونین کے انتخابات کے لئے کوئی عملی قدم اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ الطاف شکور نے کہا کہ اگر طلبہ یونینز پر پابندی نہ لگائی جاتی اور آئین و قانون کی خلاف ورزی اور میرٹ کی پامالی و حق تلفی کا سلسلہ جاری نہ رہتا تو آج ملک کی تقدیر اچھی لیڈر شپ کے ہاتھوں میں ہوتی۔ الطاف شکور نے کہا کہ وہ عناصر جو یہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ یونیز کے انتخابات کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں خون خرابہ ہوگا وہ غلطی پر ہیں۔ آج کا طالب علم پہلے کے مقابلے میں زیادہ باشعور اور سلجھا ہو اہے۔لیکن اُس کی قائدانہ صلاحیتوں کو اس لئے زنگ لگ رہا ہے کہ وہ طلبہ مسائل پر آواز بلند نہیں کر سکتا۔ الطاف شکور نے کہا کہ جب وہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی طلبہ یونین کے صدر تھے تو ان کے دور میں نقل، غنڈہ گردی اور ہاسٹل سے بدمعاشی کا خاتمہ ہوا۔ طلبہ کے لئے فیسوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہوئے اور این ای ڈی کا نام معیاری تعلیمی اداروں کی فہرست میں اوپر آیا۔
![]()