ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ اسماعیل خان میں ماحولیاتی آلودگی کا موجب بننے والے سٹون کریشرز تو بند ہوگئے مگر ماحول کو تباہ کرنے والا نیا باب کھل گیا، بھٹہ خشت ٹائر اور ربڑ کا کچرا جلانے لگے، ملک بھر میں بھٹوں کے خطرناک اور کیمیکل والے دھوئیں سے متاثر ہونے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد پانچ ملین ہے۔ورلڈ بنک رپورٹ، ڈیرہ کی حدود میں واقع درجنوں کی تعداد میں بھٹہ خشت کم اخراجات کر کے زیادہ منافع کمانے کی غرض اینٹوں کو جلدی پکانے کے لئے لکڑی اور کوئلے کے ساتھ ساتھ پرانے ٹائرز، ربڑ اور پلاسٹک کے پرانے جوتے اور دیگر کچرا جلانے لگے جس سے ارد گرد کا ماحول مضر صحت دھوئیں کی وجہ سے خراب ہو گیا ہے اور اکثر یہ بھٹہ خشت والے مغرب کے بعد یا رات کے اوقات میں کوئلہ کی بچت کرنے کے لئے پرانے ٹائرز اور ربڑ کے پرانے جوتے اور دیگر مضر صحت اشیاء جلاتے ہیں جس کا دھواں آبادی کے لئے انتہائی خطرناک ہے مقامی ڈاکٹر کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک مریض سانس کی مختلف بیماری کے ساتھ آتا ہے بھٹوں کا یہ دھواں انسانی صحت کے لئے اس قدر خطرناک ہے کہ اس سے پھیپھڑوں کا کینسر، ٹی بی، دمہ سمیت جلد کی مختلف بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں "کلیننگ پاکستان ایئر” کے عنوان سے شائع ہونے والی ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستانی شہری فضائی آلودگی میں سرفہرست ہیں فضائی آلودگی انسانی صحت اور معیشت دونوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہروں میں رہنے والے خصوصاًً غریب لوگ اس فضائی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں اور % 35 سے زائد شہری اس آلودگی سے متاثر ہو رہے ہیں رپورٹ کے مطابق سال 2005 میں پاکستان 22,600 لوگوں کی موت کی ایک وجہ شہری فضائی آلودگی بھی تھی، اور سالانہ 80,000 افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق مختلف ملز، انڈسٹریز اور خاص طور پر بھٹوں کے خطرناک اور کیمیکل والے دھوئیں سے متاثر ہونے والے پانچ سال سے کم عم کے بچوں کی تعداد پانچ ملین ہے جوکہ مختلف سانس کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں، پاکستان اینوائرمینٹل ایکٹ 1997 کے مطابق کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی ایسے کیمیکل، یا مضر صحت اشیاء استعمال نہیں کرسکتا جس سے ارد گرد کے ماحول یا آبادی کو نقصان کا اندیشہ ہو، مگر اس کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان میں اس قسم کا مذموم دھندہ اپنے عروج پر ہے اور آبادی کے اندر بھٹہ خشت چلانے والوں کے لئے کوئی ایس او پیز نہیں ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔
![]()