ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) شہریوں نے ٹی وی فیس میں اضافہ کی تجویز کو مسترد کردیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے پی ٹی وی فیس میں اضافہ کی تجویز کو مستر د کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی وی کو بند کیا جائے، پی ٹی وی میں کچھ بھی نہیں ہے۔ پی ٹی وی کا خسارہ شہریوں سے نہ نکالا جائے۔ مہنگائی نے ریکارڈ توڑ دیا ہے اور اگر ٹی وی فیس میں اضافہ کیا گیا تو وہ پی ٹی وی سے مکمل بائیکاٹ کریں گے، پی ٹی وی پہلے سے ہی ختم ہوچکا ہے۔ پی ٹی وی میں ملازمین اور افسران کو برطرف کیا جائے، پی ٹی وی کی فیس میں اضافہ عوم سے زیادتی ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث تنخواہ دار طبقہ اور سفید پوش طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پی ٹی وی کی اس تجویز کو حکومتی سطح پرپذیرائی نہیں ملنی چاہیے۔ عوام پر پہلے ہی بہت بوجھ ہے اور یہ مزید بوجھ عوام برداشت نہیں کر پائیں گے۔ بجلی بلوں کے ذریعی ٹی وی لائسنس فیس کی وصولی میں گھریلو اور کمرشل صارفن کے ساتھ ساتھ دینی مدارس، مساجد، اولیاء اللہ کے درباروں، گوردواروں، مندروں سے بھی پی ٹی وی کا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے حالانکہ ان مذہبی مقامات میں ٹیلی ویژن کے استعمال کا تصور بھی نہیں ہے۔ عبادت گاہوں سے منسلک شخصیات کے مطابق سرکار کی طرف سے کوئی ایسا طریقہ کار وضع نہیں جس کے ذریعے عبادت گاہوں سے پی ٹی وی لائسنس کی وصولی ختم کرائی جاسکے۔ حکومت کو کسی بھی مذہب کے مقدس مقامات سے ٹیلی ویژن فیس وصول نہیں کرنی چاہیے، تحریک انصاف کی حکومت غریبوں کے جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ٹی وی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شہریوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ غیر قانونی بلکہ جگا ٹیکس ہے، ٹی وی سیٹ نہ رکھنے اور پی ٹی وی نہ دیکھنے والوں کی جیبوں سے پیسے بٹورنے کے اس اقدام کوعدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
![]()