ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ٹی وی لائسنس فیس میں اضافہ، بجلی صارفین پر تیرہ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ وفاقی کی جانب سے ٹی وی لائنس فیس میں 186 فیصد مجوزہ اضافہ کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر تیرہ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بجلی صارفین 35 روپے ماہانہ ٹی وی فیس کی مد میں سالانہ سات ارب روپے سے زائد کا ریونیو حاصل ہورہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے لاکھوں گھروں میں ٹی وی نہ ہونے کے باوجود ان صارفین سے ٹی وی لائسنس کی مد میں 35 روپے ماہانہ بجلی کے بلوں میں وصول کیے جارہے ہیں۔ بعض مذہبی مقامات سے بھی 35 روپے ماہانہ بلوں میں وصول کیے جارہے ہیں جبکہ پی ٹی وی انتظامیہ کے حالیہ فیصلے جس میں نئے بزنس پلان کی منظوری دیتے ہوئے بجلی کے صارفین سے ٹی وی لائسنس کی مد میں 75 روپے ماہانہ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے اس تجویز کے منظوری کے نتیجے میں پی ٹی وی کو اس مد میں سالانہ آمدنی سات ارب روپے سے بڑھ کر بیس ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ اس طرح ملک بھر میں بجلی کے صارفین پر تیرہ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ تجویز پی ٹی وی کے خسارے پر قابو پانے کے لئے دی گئی ہے۔ پی ٹی وی کا سالانہ خسارہ اس وقت بیس ارب روپے ہے جبکہ ٹی وی لائسنس فیس میں مجوزہ اضافے کے نافذ ہونے سے پی ٹی وی کا خسارہ کم ہوکر سات ارب روپے ہوجائے گا۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں پی ٹی وی صرف بعض علاقوں تک محدود ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں پی ٹی وی دیکھا ہی نہیں جاتا۔ سوشل میڈیا، کیبل نیٹ ورک اور پرائیویٹ چینلز کے باعث پی ٹی وی صرف بعض علاقوں تک ہی محدود ہوچکا ہے۔
![]()