کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ حکومت نے کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی سرپرستی کے لیے ’’کھیل سب کے لیے‘‘ کے عنوان سے سندھ اسپورٹس پالیسی 2026ء صوبے بھر میں نافذ کرنے کا اعلان کردیا سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان سندھ منور علی مہیسر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کھیلوں کی ترقی کے لیے جامع فریم ورک ہے جس کے تحت 7 سے 15 سال کے بچوں کے لیے ضلعی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا جبکہ ہر ڈویژن میں کثیرالمقاصد کھیلوں کے مراکز اکیڈمیز اور اسپورٹس سٹی قائم کیے جائیں گے تعلیمی اداروں میں جسمانی تعلیم اور کھیلوں میں شرکت لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسپورٹس سائنس سینٹرز اور بائیومکینکس لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی۔ کھلاڑیوں کو ماہانہ و تعلیمی وظائف اور بیمہ کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات بھی پالیسی میں شامل ہیں۔
منور علی مہیسر نے کہا کہ خواتین خصوصی کھلاڑیوں، پنک گیمز، اولمپک و غیر اولمپک کھیلوں، ای اسپورٹس اور روایتی و جدید کھیلوں کو یکساں فروغ دیا جائے گا سندھ اسپورٹس بورڈ کی بحالی اور اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اسپورٹس ایسوسی ایشنز میں شفافیت اور میرٹ کے لیے انتخابات اور ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ نجی اسپورٹس کلبز سمیت تمام کلبز، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات کی رجسٹریشن کی جائے گی سرکاری فنڈز حاصل کرنے والی ایسوسی ایشنز کی سرگرمیوں اور اخراجات کی نگرانی، باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے آنر پلیئر پالیسی اور انسدادِ ڈوپنگ ضوابط بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2040ء تک سندھ میں کھیلوں کے شعبے کو مزید فروغ دینا حکومت کا ہدف ہے جاپان کے ساتھ کھیلوں کے تبادلے کے پروگرام اور سندھ میں جنوبی ایشیائی کھیلوں کے بعض مقابلے کرانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔