کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وومن کاکس، صوبائی اسمبلی سندھ جائزہ اجلاس، صوبائی اسمبلی سندھ کا جائزہ اجلاس ڈپٹی اسپیکرریحانہ لغاری کی سربراہی میں انکے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، ایم کیوایم اور تحریک لبیک پاکستان کی خواتین اراکین کی شرکت۔ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے خواتین و بچوں سے متعلق درجن سے زائد قوانین پاس کیے ہیں۔ اجلاس میں اراکین سندھ اسمبلی نے اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ سندھ اسمبلی چائلڈ میرج، ہوم بیزڈ ورکرز، ری پروڈکٹو ہیلتھ، وومن ایگریکلچر ورکر، میٹرنٹی، ہندو میرج، نیو بورن اسکریننگ، انسانی حقوق اور دیگرمثالی قوانین پاس کرچکی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد کی اجارہ داری کی وجہ سے خواتین و بچوں سے متعلق قوانین تاخیرکا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں ابھی بھی چند خواتین سے متعلق بلز زیر التوا ہیں، جبکہ مزید بلز کی ضرورت ہے۔ ہیراسمنٹ ایٹ ورک پلیس، ڈوری بل، ایسڈٹھروانگ، اونر کلنگ اور دیگر قوانین زیرالتوا ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام خواتین اراکین اسمبلی خواتین و بچوں سے متعلق اپنے اپنے زیر التوا بلز وومن کاکس کے آئندہ اجلاس میں بحث اورجائزہ کے لیے پیش کریں۔ تمام اراکین اپنی جماعت کے ایجنڈے سے بالاتر ہوکر خواتین سے متعلق قوانین پر مل کر کام کریں گی۔ خواتین و بچوں سے متعلق بلز اور قوانین پر کام کرنے کے لیے وومن کاکس کی تین، 3 اراکین پرمشتمل عمل درآمد، جائزہ، تحقیق اور دیگر کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ تحقیقی کمیٹی خواتین و بچوں سے متعلق تمام زیر التوا بلز و قوانین کا جائزہ لے گی، جبکہ عمل درآمد کمیٹی منظورشدہ بلز پر مجوزہ قوانین جبکہ جائزہ کمیٹی اراکین کے مجوزہ بلز کا جائزہ لے گی۔
![]()