کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے گلشن اقبال میں واقع ان کی رہائش پر محبان کراچی کے چیئرمین حافظ محمد ارشد رفیق کی قیادت میں سندھ کے مختلف اضلاع کے ذمہ داران نے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی کیلئے 17 سالہ طویل جدوجہد کرکے حکومت اور ریاستی حکام کیلئے عافیہ کی وطن واپسی کو آسان تر بنا دیا ہے۔ کپتان اگر فارم میں واپس آجائیں تو عافیہ کی وطن واپسی کیلئے اب طویل اننگز کی نہیں صرف ایک ٹی 20 اننگز کی ضرورت ہے۔ مارچ 2003 جوکہ عافیہ کے اغواء کا مہینہ تھا اگر حکومت سنجیدگی سے کوشش کرے تو مارچ 2020 عافیہ کی وطن واپسی کا مہینہ بن سکتا ہے۔ محبان کراچی کے چیئرمین حافظ محمد ارشد نے کہا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے امریکی حراست میں 17 سال گذرنے پر ایک عام پاکستانی شرمندگی محسوس کرتا ہے جس کا احساس حکمرانوں اور ریاستی حکام کو نہیں ہے۔ جب ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرنے پر امریکہ رضامند ہو چکا ہے تو وزیراعظم عمران خان کیوں خاموش ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ عمران خان کو سیاست میں پذیرائی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر ہی ملی تھی۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان عافیہ کی رہائی سے متعلق اپنے وعدوں اور دعووں کو پورا کریں۔ انہوں نے اس بات کے عزم کا بھی اظہار کیا کہ محبان کراچی قوم کی بیٹی کی باعزت وطن واپسی تک عافیہ موومنٹ کا مکمل ساتھ دے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ہر صورت میں وطن واپس لایا جائے۔
![]()