کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت آجانے کے بعد انفرا اسٹرکچر کی تبدیلی اور بہتری کے تمام دعوے پانی کے بلبلے ثابت ہوئے۔ کراچی کے 60 فیصد علاقوں میں پانی دستیاب ہی نہیں، کراچی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ شہر کراچی میں پانی کے بحران کی ذمہ دارصوبائی اور وفاقی حکومتیں ہیں۔ کراچی کی پانی کی مجموعی طلب 1.2 ارب گیلن ہے جبکہ اس کا آدھا بھی نہیں بلکہ اس سے بھی کم کراچی کو580 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کے فور منصوبے کو فوری مکمل کر کے کراچی شہر کے پانی کے مسائل کو حل کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں اقبال ہاشمی نے کہا کہ کراچی کے بڑھتے ہوئے مسائل میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ پانی کی قلت کا ہے جسے دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے کینجھر جھیل سوکھ چکی ہے، حب ڈ یم اور ڈملوٹی کا پانی بھاپ بن کر اڑ گیا ہے۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی روز پانی نہیں آتا جس کی وجہ سے عوام کو بے شمار پریشانیوں کا سامنا ہے۔ پورے شہر میں ٹینکر مافیا کا راج ہے۔ کراچی ایک صنعتی شہر ہے جس کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے جبکہ نصف سے زیادہ آبادی پانی سے محروم ہے۔ پینے کے لئے پانی خریدنا پڑتا ہے اور دیگر استعمال کے لئے بھی کراچی کی عوام ٹینکر مافیا کی محتاج ہیں۔ پانی کے بحران کے پیچھے کراچی کی آبادی میں ہونے والا اضافہ، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، عدم توجہی اور ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔ پانی کی تقسیم کے نظام میں دشواریوں اور دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر صلاحیت کی کمی کی وجہ سے پانی کو اس کی طلب کے مطابق پانی نہیں مل پاتا۔ گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم جسے کے فور بھی کہا جاتا ہے، پرعوام کے 10 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود کام طویل عرصے سے بند ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے دی ہوئی متعدد تاریخوں کی تبدیلی کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ اس منصوبے کا آغاز 2008 میں ہوا تھا۔ یہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا جس کا مقصد کراچی شہر کی روزانہ پانی کی فراہمی کو بڑھانا تھا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے 2019 کے وسط تک مکمل ہونے والا منصوبہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ شہر کراچی کیلئے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور صفائی ستھرائی کے لئے اقدامات کرنے کے تمام وعدے تا حال صرف خواب و خیال تک محدود ہیں۔ بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے کراچی میں پانی کا شدید بحران ہے جس کے حل کے لئے اگر ٹھوس کوششیں نہ کی گئیں تو آنے والے دنوں میں یہ سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ اقبال ہاشمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت کراچی میں پانی کی قلت سے نجات کے لئے سمندری پانی کا آر او پلانٹ لگائے۔ کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی حق دیا جائے تاکہ شہر کراچی اپنے وسائل سے پانی و بجلی کے مسائل اور انفرا اسٹرکچرکی بہتری جیسے تمام منصوبوں کے لئے کام مکمل کرسکے۔
![]()