ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) غیر قانونی پروفیشنل ٹیکس اور انتظامیہ کی معاملے کو حل کرنے میں عدم دلچسپی کے خلاف مرکزی انجمن تاجران، تاجر اتحاد، تاجر ایکشن کمیٹی نے بروز ہفتہ احتجاجی جلسہ اور دھرنے کا اعلان کردیا، پروفیشنل ٹیکس کے خلاف ڈیرہ کی تمام تاجر برادری کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سہیل اعظمی، راجہ اختر علی، حامد علی رحمانی، خالد ناز، اشفاق چغتائی، شریف چوہان، ایوب ایوبی، محمد رمضان، محمد نواز، چوہدری جمیل، محمد اشرف، امان اللہ، شیر خان، نعیم قریشی، خلیل نمبرد ار، فضل الرحمٰن، جان محمد اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سہیل اعظمی نے کہا کہ عرصہ دراز سے ٹی ایم اے ڈیرہ کے افسران، ٹھیکیدار کی ملی بھگت، کرپشن کے باعث غیر قانوی پروفیشنل ٹیکس ڈیرہ کے تاجروں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے، انہوں نے مذکورہ ٹیکس کے بارے میں تمام تر قانونی نقطہ نظر واضح کیا کہ یہ ٹیکس ٹھیکیدار نہیں لے سکتا اور نہ ہی ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے اور نہ ہی پولیس کو استعمال کرسکتا ہے، خوراک سے متعلقہ ادارے، حلال فوڈ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لائسنس دینے کا مجاز ہے، باقی تمام ادارے نوٹیفیکشن نمبر 42 ڈی جی (کے پی ایف ایس اے ) ایڈمن مورخہ 21.03.18 کے تحت مجاز نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ٹی ایم اے اور محکمہ فوڈ اس سلسلے میں تاجروں کو ہراساں کرکے لائسنس کے نام پر ناجائز تنگ کرنے میں مصروف ہیں جبکہ سال 2018 کے ٹیکس کو جو مظہر قریشی نے تاجروں سے وصول کیے ہیں کی عدالت اپنے آرڈر مورخہ 09.04.19 کے ذریعے ریکوری کے آرڈر کر چکی ہے جب یہ ٹیکس ایک ٹھیکیدار ٹی ایم اے کا 2018 میں عدالت اور محکمہ حلال فوڈ کے آرڈر اور احکامات کی روشنی میں وصول نہیں کرسکتا تو 2019 میں کیسے یہ ٹھیکہ دے دیا گیا۔ اس ظلم مسلسل کے خلاف تاجران نے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ڈیرہ سے بھی رجوع کر رکھا ہے جبکہ بروز ہفتہ بوقت دس بجے بمقام چوگلہ تمام تاجر تنظیموں کی جانب سے اجتماعی جلسہ اور دھرنا ہوگا جس میں شریک نہ ہونے والے تاجروں کے بارے میں یہی تصور ہوگا کہ وہ ٹیکس کے حق میں ہیں، اجلاس میں محکمہ فوڈ کے اہلکار چوہدری خلیق الرحمٰن کی تاجران کو آئے روز تنگ کرنے کے خلاف قرار داد پیش کی گئی اور اس کے فوری تبادلے کا مطالبہ کیا گیا۔
![]()