ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ نے مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت تک ہڑتال اور عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا، خیبر پختونخوا بار کونسل کی کال پر ہائی کورٹ بار اور ماتحت عدالتوں کے وکلاء نے ڈیرہ اسماعیل خان میں تین روز عدالتوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور کوئی بھی وکیل کسی کیس کی پیروی کیلئے عدالت میں پیش نہیں ہوا جس سے سائلین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خصوصاً وہ سائلین جو دور درازعلاقوں سے اپنے کیسوں میں پیشی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ گزشتہ روز ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مطالبات منظور ہونے تک ہڑتال اور تمام عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ وکلاء کا مطالبہ ہے کہ ضابطہ دیوانی مقدمات اور نارکاٹیکس ایکٹ میں ترامیم کو واپس لیا جائے، صوبائی حکومت کی جانب سے نئی ترامیم سے ماتحت عدالتوں کا اختیار کم کردیا گیا ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اسلئے نئے قوانین انصاف پرمبنی نہیں، نئے قوانین سے ہائیکورٹ پر کیسوں کا بوجھ مزید بڑھے گا، دوسری جانب عدالتوں میں آنیوالے سائلین نے بتایا کہ وکلاء برداری معمولی معمولی باتوں پر عدالتوں سے بائیکاٹ کردیتے ہیں جس سے سائلین کو مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے بار کونسل سے مطالبہ کیا کہ خدارا سائلین کی حالت پر رحم کھایا جائے اور بار بار بائیکاٹ کا سلسلہ بند کیا جائے۔
![]()