کوالالمپور (رپورٹ: عامر وقاص چوہدری) اقصی فرینڈز سوسائٹی کی جانب سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کے آڈیٹوریم میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 7 دسمبر کی رات کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس کا عنوان تھا "بالی ووڈ کے لینس سے ہٹ کر کشمیر” "جب آپ کشمیر کے بارے میں سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ آپ نے اسے شاید بالی ووڈ کی مشہور فلموں میں دیکھا ہوگا۔ ان سب ڈرامائی انداز میں کوریوگرافگ گانوں کے ساتھ جس میں وادی کشمیر کی خوبصورت فطرت کے نظارے جس میں ایک خوبصورت زندگی کے ساتھ ایک خیالی زمین کی نمائندگی کی جاتی ہے جس میں دکھایا جاتا ہے کہ بھارت کی بہادر فوجیوں کی مدد سے کشمیری عوام کی خدمت کرتے ہیں اور انہیں ہر طرح کے نقصان سے بچاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کچھ فلموں جن میں "بجرنگی بھائی جان”، "فنا” "جب تک ہے جاں” اور "ویر زارا” جیسی فلموں کی وادی کشمیر میں عکس بندی کی گئی لیکن یہ کشمیر ہے۔ جو صرف بالی ووڈ کی عینک کے ذریعے ہی ہے۔ کیا آپ اصلی کشمیر دیکھنا چاہیں گے؟ کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ واقعی کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟ بالی ووڈ کے عینک کے پیچھے کشمیر میں کیا کچھ ہورہا ہے پچھلی کئی دہائیوں سے اور خاص کر گزشتہ 125 دن سے زائد لاک ڈاؤن اور کرفیو سے کس طرح غیر انسانی طریقے سے وہاں کشمیریوں پر مظالم ہورہے ہیں آئیں کشمیریوں کی باتیں خود سنیں، وہ اپنی کیا کہانیاں سناتے ہیں، ان کی سرزمین کی کہانی، اصلی کشمیر کی کہانی۔ ہال میں موجود حاضرین کو اقصی فرینڈز سوسائٹی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم و ستم کے بارے میں کشمیریوں کی ویڈیوز اور پیغامات ڈاکومینٹری فلم دیکھائی گئی جس نے بھارتی بالی ووڈ کی اصل حقیقت اور ان کی افواج کا اصل چہرہ بے نقاب کیا اور دکھایا گیا کہ جو کچھ بالی ووڈ کی فلموں میں جھوٹ اور سب اچھا ہے دکھایا جاتا ہے حقیقت اس کے برعکس ہے، معصوم بچوں پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جاتا ہے ان کے چہرے اور جسم کو چھروں سے زخمی کیا جاتا ہے، خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے بزگوں کو مارا پیٹا جاتا ہے یہ ہے وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر جس کو بالی ووڈ کی فلموں کے ذریعے ایسا دکھایا جاتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں امن امن ہی ہے، گزشتہ 125 دن سے زائد ہونے کے باوجود بھارت نے مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے اور کرفیو برقرار ہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری اس وقت خوراک کی کمی کا شکار ہیں بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں، مریضوں کو ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے یہ وہ بھارت ہے جو فلموں میں دکھاتا ہے کہ سب اچھا ہے اور حقیقت میں اس کا اصلی چہرہ کشمیری بے نقاب کر رہے ہیں۔ ہال میں موجود حاضرین نے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو سن کر اور دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے۔ تقریب میں موجود مقررین نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ آخر کب تک مقبوضہ وادی کشمیر کے لوگ اس ظلم و ستم کا سامنا کریں گے کشمیریوں کو فوری طور پر بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جاۓ اور کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق استصواب راۓ کا حق دیا جاۓ۔
![]()