کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) عام آدمی پارٹی کے سربراہ جسٹس (ر) وجہیہ الدین احمد نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر بھی معیشت میں بہتری لاسکتی ہے، گیس کی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے سیمنٹ کی بوری پر 80 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مزید مہنگائی میں اضافہ ہوگا، حکومت ٹیکسز کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے، وزیر اعظم ہاس، گورنرہاس اور دیگر قیمتی سرکاری زمینوں کو نیلام کر دے جس کے ذریعے سے بڑا سرمایا حاصل ہوسکتا ہے، ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ معروف معاشی ماہر یوسف نذر، جاوید بخاری اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں، جسٹس وجہیہ الدین نے مزید کہا کہ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کسی آنسٹائن کی ضرورت نہیں ہے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر حکومت عمل درآمد کر کے معاملات کو بہتر بناسکتی ہے۔ معاشی ماہر یوسف نذر نے کہا کہ میں نے کوریا، لندن، سنگاپور اور دیگر کئی ممالک میں رہ کر وہاں کے معاشی نظام اور ٹیکسز کے نظام کو بہت قریب سے دیکھا ہے ہمارے ہاں سب سے پہلے ٹیکسز کے نظام کو بیورو کریسی کے چنگل سے نکالنا ہوگا، ٹیکسز کا نظام اتنا سادہ اور آسان ہونا چاہئے کہ کسی بھی شخص کے لئے مسائل نہ ہوں، ذراعت پر ٹیکس لگنا چاہئے آمدنی کے لحاظ سے، وزیر اعظم ہاس، گورنر ہاسز، اور سرکاری زمینوں کو نیلا م کردیا جائے یہ زمینیں اتنی زیادہ مہنگی ہیں کہ حکومت کو بڑا سرمایا حاصل ہوسکتا ہے، اور حکومت ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بناکر 500 بلین روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ زمینیں کرپشن کی جڑ ہیں اس پر حکومت کو کام کرنا چاہئے۔اٹھارھویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں اور وفاق کی کم ہوگئی ہیں اس لئے وفاقی حکومت اپنے خرچوں میں کمی لاسکتی ہے۔ ٹیکسز کے نظام میں بہتری کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہئے۔
![]()