کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان انسیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر)کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم دان پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد شیخ، سندھ ہیومن رائٹس ڈفینڈرس نیٹ ورک کے سربراہ علی پلھ، ریسرچر مس زینبہ شوکت اور پائلر کے جوائنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ نے کہا کہ مظبوط جمہوریت کے لیے آئین میں دئیے گئے تمام بنیادی حقوق مہیا کرنا ریاست کی ذمے داری ہے، اس موقع پر پائلر کی جانب سے تیار کردہ ایک ریسرچ رپورٹ بھی جاری کی گئی، جسے تیار کرنے والی ریسرچر مس زینبہ شوکت کے مطابق ملک میں اظہار آزادی کے بنیادی حقوق پر پابندی لگائی جارہی ہے اور پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، کچھ مخصوص موضوعات پر بات نہیں کی جا سکتی ہے، جن میں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کی بازیابی بھی شامل ہے علاوہ ازیں میڈیا میں گمشدہ افراد کے لواحقین کے بیانات تک نہیں آنے دئیے جاتے ہیں جبکہ انجمن سازی کے بنیادی حقوق کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، رپورٹ کے مطابق 2005 سے لے کر 2016 تک پاکستان میں 102 صحافیوں کو قتل کر دیا گیا، جن میں سے صرف 5 مقدمات میں ملوث چند ملزمان کو سزائیں دی گئیں، رپورٹ میں فلاحی تنظیموں کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں پر بھی اظہار تشویش کیا گیا-
![]()