ایبٹ آباد (رپورٹ: عتیق سلیمانی) کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے ہزارہ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت جاری کی کہ محکمہ جنگلات کی جس قسم کی بھی اراضی ہے اس کو محکمہ مال اور سروے آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق واگزار کرانے میں ہر ممکن مدد کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کمشنر ہاؤس ایبٹ آباد میں محکمہ جنگلات کے افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ہزارہ، ہزارہ ڈویژن کے آٹھوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر، کنزرویٹر ڈی ایف اوز اور دیگر بھی موجود تھے۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن نے کہا کہ محکمہ مال کے سیٹل منٹ ریکارڈ کے مطابق آپ اپنا ریکارڈ چیک کریں کیونکہ اصل ریکارڈ محکمہ مال کا سیٹل منٹ ریکارڈ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1904 جبکہ 1945 اور1977 محکمہ جنگلات تینوں سیٹل منٹ ریکارڈ دیکھ سکتا ہے اور اس کے مطابق اپنا ریکارڈ درست کرلیں کیوںکہ سیٹل منٹ ریکارڈ کو کوئی بھی تبدیل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں ہر قسم کے محکمہ جنگلات کا ریکارڈ موجود ہے اور تمام گزاراجات کو باقاعدہ خسرہ نمبر آلاٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی جنگلات میں آگ لگتی ہے اس کو بجانا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن میں جن جن تھانوں میں محکمہ جنگلات کے ٹمبر مافیا کے خلاف مقدمات درج ہیں ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے پولیس آپ سے بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے افسران کو ہدایت کی کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمات ہیں ان لوگوں کی لسٹیں متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو فراہم کی جائیں۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے افسران کو ہدایت کی کہ ان لوگوں کی گرفتاری کے لیے محکمہ جنگلات باقاعدہ فورس بنائے جو ان لوگوں کو گرفتار کریں۔ انہوں نے کہا کہ لکڑ سمگلنگ کی روک تھام کے لئے محکمہ جنگلات کی مختلف مقامات پر جو چیک پوسٹیں ہیں ان پر دیانتداری سے اگر چیکنگ کی جائے تو کافی حد تک لکڑ کی سمگلنگ کنٹرول کی جاسکتی ہے۔
![]()