Home / اہم خبریں / سانحہ تیز گام لیاقت پور کی شہادتوں پر رنج ہے۔ ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے فرائض پورے کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی میرپورخاص میں صحافیوں سے گفتگو

سانحہ تیز گام لیاقت پور کی شہادتوں پر رنج ہے۔ ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے فرائض پورے کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی میرپورخاص میں صحافیوں سے گفتگو

میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) کنوینر رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان مسعود محمود، ڈاکٹر ظفرکمالی، رکن قومی اسمبلی صابر قائمخانی، اراکین صوبائی اسمبلی راشد خلجی، ناصر قریشی، میئر حیدرآباد طیب حسین، ڈپٹی میئر حیدرآباد و رکن رابطہ کمیٹی سید سہیل مشہدی، انچارج سندھ تنظیمی کمیٹی سلیم رزاق، اراکین سندھ تنظیمی کمیٹی خوشی محمد مغل، حق نواز قائمخانی، اراکین نگراں ڈسٹرکٹ کمیٹی محمد علی شاہ، عبدالاحد، چیئرمین بلدیہ انجینئر کامران شی، وائس چیئرمین فرید احمد خان، حق پرست کونسلرز اور ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے ذمہ داران و کارکنان کے ہمراہ سانحہ تیزگام لیاقت پور میں شہید ہونے والے حبیب کالونی کے رہائشی فاروق کمبوہ کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں انہوں نے میرپورخاص کے مختلف علاقوں سیٹلائیٹ ٹاؤن، غریب آباد، پاک کالونی، نواب کالونی اور حبیب کالونی کے رہائشی سانحہ تیزگام لیاقت پور کے شہداء شریف آرائیں ، وقار مری، عبدالطیف، آفتاب شکیل، محمد نواز، محمد سلیم اور دیگر کے گھروں پر جاکر سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے بلند درجات، لواحقین کے لئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرین حادثے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہادتوں پر رنج ہے اور ہمیں اجتماعی اور انفرادی طور پر اپنے فرائض پورے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین حادثات کا معاملہ ماضی میں بھی ایوانوں میں اٹھایا ہے اور ایسے بڑے سانحے کا معاملہ ایوانوں میں اٹھانا ضروری ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر ریلوے سے کہا ہے کہ واقعے کی نہ صرف شفاف تحقیقات ہونی چاہئے بلکہ حکومت کو وعدے کے مطابق ذمہ داری پوری کرنی چاہئے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے اگر قانون سازی کی ضرورت پڑے تو کی جانی چاہئے۔ انہوں نے وزیر ریلوے کو ہٹانے کے مطالبے کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سانحات کے وقت سیاسی بیانات غموں کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ پہلے کا مطالبہ ہے، معیارات بدلتے نہیں، اگر ایسا لگتا ہے کہ وزیر ریلوے کی موجودگی میں شفاف تحقیقات نہیں ہوسکتی تو یہ کام بھی کیا جاسکتا ہے، دیکھنا ہوگا کہ حالات کیا ہیں اور کس چیز کا تقاضہ کرتے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سندھ حکومت نے عید تعطیلات 4 سے کم کر کے 3 دن کر دیں، نیا نوٹیفکیشن جاری

کراچی، (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے