کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) غیر قانونی اقدامات اور اسٹاف کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی درجنوں شکایت پر برطرف کی گئی گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیرسیکنڈری اسکول کراچی کی جونئیر پرنسپل نشاط امین نے سیکریٹری تعلیم کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے، نشاط امین نے پرنسپل آفس کو تالا لگا دیا جبکہ سرکاری احکامات پر تعینات کی گئی نئی پرنسپل فرزانہ اکرم کو چارج دینے سےانکار کر دیا ہے، تفصیلات کے مطابق نشاط امین کے خلاف محکمہ تعلیم کو درجنوں شکایتیں موصول ہوئیں جن میں گھوسٹ ملازمین کی سرپرستی کرنا، بائیو میٹرک سسٹم اور ٹیم سےغلط بیانی، طلباء سےغیر قانونی رقم کی وصولی اور اسٹاف کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی شکایات شامل تھیں، سیکریٹری تعلیم احسن منگی کے احکامات کے بعد ڈائیریکٹر اسکولز حامد کریم نے نشاط امین کوعہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن تین روز گذرنے کے باوجود بھی نہ تو خاتون نے چارج چھوڑا ہے بلکہ پرنسپل آفس کو تالا لگا کرسیل بھی کر دیا ہے، نئی تعینات کی گئی پرنسپل فرزانہ اکرم جب چارج لینے پہنچی تو انھیں بند کمرے اور تالے کا سامنا کرنا پڑا جونئیر پرنسپل نشاط امین نے سیکریٹری تعلیم آفس میں اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسکول کے تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف کو معطل کرانے کی کوشش بھی کی ہے، معطل کیے جانیوالوں پر الزام یہ ہے کہ انھوں نے میڈیا سے رابطہ کیوں رکھا اور اسکول کے اندر ہونیوالی کرپشن، پرنسپل کی اجارہ داری کو بے نقاب کیا جن اسٹاف کو معطل کرنے کی فہرست تیار کی گئی ہے ان میں میمونہ ابرار جونئیر اسکول ٹیچر سید عارف علی اسسٹنٹ۔ سہیل خلیل لیب اٹینڈڈ، راشد جمالی کمپیوٹر آپریٹر، سید محمّد یونس لیب اسسٹنٹ، لیب اٹینڈنٹ سید مظہرعباس شامل ہیں، فرزانہ اکرم نے کھلے ہال میں اساتذہ سے گفتگو کی لیکن انھیں چارج نہیں دیا گیا چند ہفتوں قبل اسکول میں مسائل کے انبار پر اساتذہ نے محکمہ تعلیم کو درجنوں شکایتیں کیں لیکن انکوائری سرد خانے کی نذر کردی گئی تھی، اساتذہ کے مطابق اسکول مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں غیر متعلقہ افراد کی آمد کا سلسلہ بھی رہتا تھا ساتھ ہی چار اساتذہ اور دو اسٹاف پر مشتمل عملہ بغیر ایس این ای کے تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ لیبارٹری اسسٹنٹ معظم سعید دو سالوں سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں لیکن تنخواہ جاری ہے ان تمام افراد کو نشاط امین کی سرپرستی حاصل ہے اسکول انتظامیہ نے سرکاری ٹیچر کی تنخواہ رکو اکر پرائیویٹ اساتذہ کو پڑھانے کے لئے رکھ لیا ہے پرائیویٹ اساتذہ کی تنخواہ کہاں سےآتی ہے؟ کوئی ریکارڈ یا بجٹ موجود نہیں ہے جونئیر پرنسپل نشاط امین کے حوالے سے اسٹاف نے مزید شکایت کی کہ اسٹاف کی ویڈیو بناتی رہتی ہیں اور انھیں حراساں کیا جاتا ہے اسکول کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ شدید اذیت میں مبتلاء ہے، پرنسپل کی سرپرستی میں اسکول کے کیمسٹری لیب کو ختم کرکے ذاتی جگہ بنالیا گیا ہے جبکہ اسٹاف کے بیٹھنے کا کمرہ بھی ذاتی استعمال میں لے لیا ہے اسکول کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے درخواست کی ہے کہ تعلیمی ادارے کی ساکھ کو بچانے میں کردار ادا کریں، بغیر ایس این ای تنخواہیں وصول کرنیوالوں میں ڈائیریکٹر فزیکل ایجوکیشن، شاہانہ پروین، عربی ٹیچر، ارشاد حسین، مجاہدالاسلام کی پوسٹ یہاں موجودہ ہی نہیں، عربی ٹیچر اعجاز حسین، ورکشاپ کلی، یوسف اور کلینر راشد کی بھی پوسٹ کمپری ہینسیو اسکول میں نہیں جونئیر پرنسپل نشاط امین کےخلاف آنیوالی درجنوں شکایتیں محکمہ تعلیم نے سرد خانے کی نذرکردی ہیں، اساتذہ نے نیب اور اینٹی کرپشن سے اسکول کے معاملات کی انکوائری کرنے کا مطالبہ کردیا، نشاط امین نے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرنے شروع کردئیے ہیں گذشتہ روز سندھ سیکریٹریٹ میں سیکریٹری تعلیم کے دفتر جاکر کچھ افسران سےملاقات کی اور رشوت دیکر دوبارہ پوسٹنگ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔
![]()