کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ کے مشہور صوفی شاعر و بزرگ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی کے 276 ویں عرس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھٹائی سائیں کی شاعری عشق الہی سے لبریز اور امن و محبت کے پیغام سے مرصع ہے، آپ نے سندھ میں اسلام کو عام آدمی تک پہنچانے کیلئے جو سعی کی وہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زبان زد عام ہے۔ ایم این اے فہیم خان نے کہا کہ عشق و سرمستی، علم و آگہی، تزکیہ نفس اور اسلام سے سچی محبت کو اگر ایک نام میں یکجا کردیا جائے تو وہ نام یقیناً شاہ بھٹائی ہی بنتا ہے۔ آج دنیا بھر میں سندھ کی شناخت کا سب سے مضبوط حوالہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شخصیت اور شاہ جو رسالو ہی ہے۔ ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ شاہ بھٹائی نے تصوف کو ذریعہ اظہار بنایا اور عام آدمی میں انسانیت کی شمع روشن کی۔ آج بھی آپ کی درگاہ سے ہزاروں فیض پارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہ عبدالطیف بھٹائی نے شاہ جو رسالو کی صورت علم و عرفان کا خزانہ مہیا کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شاہ بھٹائی کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور انکے امن و آشتی کے پیغام کو عام کیا جائے۔
![]()