سری نگر (ویب مانیٹرنگ ڈیسک) قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو بالاخر مفتی محمد سعید کی تیسری نسل نے مان ہی لیا۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبی مفتی کی بیٹی التجا مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت کی حمایت کرنے والے کشمیری اب یہ سوچ رہے ہیں کہ بٹوارے کے بعد بھارت سے الحاق کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے التجا مفتی نے انتہا پسند اور متعصب مودی سرکار پر خوب بھڑاس نکالی اور وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی تقریر کے بعد کشمیری سڑکوں پر نکل کر نعرے لگا رہے ہیں جو اس جانب اشارہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد بھارت سے الحاق کا کشمیری قیادت کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ خوشی ہوئی کہ کشمیریوں کیلئے پاکستانی وزیراعظم نے آواز بلند کی۔ التجا مفتی کا کہنا تھا کہ وادی میں اب بھارت مخالف جذبات بہت زیادہ پیدا ہوگئے ہیں۔ بھارتی حکومت ترقی کی رٹ لگا رہی ہے، لیکن انہوں نے کشمیریوں سے اختیارات تک چھین لیے۔ وادی میں انٹرنیٹ آجائے گا تو لوگ بتاسکیں گے کہ اِن دو ماہ میں انہیں کیسے قید میں رکھا گیا۔ کتنے بچوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسی بات کا خوف نئی دہلی کے ایوانوں میں گھوم رہا ہے۔
![]()