ملتان(بیورو رپورٹ) سیاسی وسماجی شخصیت راؤ محمد خالد نے کہا ہے کہ مودبانہ گزارش نہایت ادب کے ساتھ ملتان ڈویژن کی یونیورسٹی، کالجز کے پروفیسروں، قومی و علاقائی اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان، صحافیوں، کالم نگاروں، دانشوروں، سیاسی و سماجی شخصیت، مذہبی اکابرین،علمی ہستیوں، بزنس کمیونٹی سے سوال ہے کہ کیا ملتان ڈویژن میں ایک بھی ایسا ماہر تعلیم نہیں ہے کہ اسے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں وائس چانسلر لگایا جا سکے؟ راؤ محمد خالد نے کہا ہے کہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا انتخاب ملتان ڈویژن سے اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر کا انتخاب بہاولپور ڈویژن سے کیا جائے، راؤ محمد خالد نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ وسیب اور روہی کا مشترکہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان بنایا جائے۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ لسانی تعصب پھیلانے والوں کو جنوبی پنجاب ملتان کی عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہیں اور عوامی اکثریت انتظامی بنیادوں پر صوبہ چاہتی ہیں۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ دریائے چناب سے گریٹر جنوبی پنجاب ملتان کینال نکال کر بہاولپور، بہاولنگر، وہاڑی کی زراعت کے لیے پانی فراہم کیا جائے۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ وہاڑی میں انجنئیرنگ یونیورسٹی، میڈیکل کالج، کیڈٹ کالج بنایا جائے، راؤ محمد خالد نے کہا کہ جنوبی پنجاب ملتان ہمارا زندہ رہنے کا حق ہے۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ کیا میرے جنوبی پنجاب ملتان کے یہ پیارے سیاست دان بتا سکتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے کے لیے بجٹ میں کیا لیکر آۓ؟ ان کا کوٸی چاہنے والا ہی بتا دے۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ جب تک منزل نہ ملے تب تک ہمت مت ہارو کیونکہ پہاڑ سےنکلنے والی ندیوں نے آج تک راستے میں کسی سےنہیں پوچھا کہ سمندر کتنی دور ہے۔ راؤ محمد خالد نے کہا کہ ملتان شہر کے داخلی راستوں پر گیٹ بنا کر قوم کا پیسہ ضایع کیا جارہا ہے۔ اس کے بجاۓ یہی پیسہ کچی گلیوں کو پختہ کرنے، پانی کے مسائل اور صحتِ عامہ پر خرچ کریں۔
![]()