کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے اسلام، پاکستان اور آئین پاکستان پر پہلا وار کر دیا ہے، قوم قادیانیت کے خلاف متحد اوریکسو تھی، قوم کو تقسیم کردیا گیا۔ میاں عاطف کو اقتصادی کونسل میں شامل کرنے کا مقصد پاکستان کی خدمت اور پاکستانی معیشت کی بہتری ہرگز نہیں تھی بلکہ ملک میں قادیانیوں کے بارے میں ایک بحث چھیڑ کر پاکستانی عوام کو تقسیم کردیا گیا۔ میاں عاطف کو تو ہٹادیا گیا ہے لیکن قادیانی لابی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہے۔ پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا کہ 1974 میں پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کے مطابق قادیانیوں کوغیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد پاکستانی قوم مکمل یکسو تھی۔ میاں عاطف کی تعیناتی اور قادیانیوں کے حق اور مخالفت میں دلائل کی نئی بحث چھیڑ دی گئی ۔ جس کے نتیجے میں قادیانیوں کے بارے میں رائے عامہ کو نرم کرکے پاکستانیوں کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ الطاف شکور نے کہا کہ قوم کو تقسیم کرنے کی سازش میں گذشتہ حکومتیں ناکام ہوچکی تھیں لیکن پی ٹی آئی حکومت نے قوم کو تقسیم کرکے یہ مقصد پورا کردیا۔ پاکستان کی یکجہتی پارہ پارہ کردی گئی ہے اور اب اس مسئلے پر مٹی ڈالنے کے لئے ڈیم فنڈ کے نام پر معاملے کو ہائی لائٹ کردیا گیا ہے۔ الطاف شکور نے کہا کہ حکمرانی اسی چیز کا نام ہے کہ بیرونی سازشوں سے ہوشیار رہ کر دیوار کے پیچھے کیا لکھا ہے کو پہلے ہی سے پڑھ لیا جائے اور عمران حکومت حکمرانی سنبھالتے ہی قدم پھونک پھونک کر رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے-
![]()