Home / اہم خبریں / علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اسلاف کی نشانی، ان کی دینی و ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔علماء اہلسنّت

علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اسلاف کی نشانی، ان کی دینی و ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔علماء اہلسنّت

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پیر طریقت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ نامور اسلاف کی بہترین نشانی، ان کی دینی و ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ شاہ صاحب نے ملک و بیرون ملک دین کی تبلیغ و اشاعت میں اپنی زندگی صرف کی، مذہبی ایوان، محراب و منبر سے لیکر حکومتی ایوان تک صدائے حق بلند کی۔ انہوں نے میمن مسجد مصلح الدین گارڈن جوڑیا بازار میں شاہ صاحب کے تیسرے سالانہ عرس کے اجتماع سے اپنے خطاب میں کہا کہ نیک لوگوں کا ذکر ِخیر کرنا گناہوں کا کفاراہ ہوا کرتا ہے۔ ہر انسان کو موت آنی ہے کامیاب شخص وہ ہے جسے مرنے کے بعد لوگ اچھے الفاظ سے یاد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے لوگوں کو دور کرنے کے بجائے قریب کرنا ترجیح بنالیں آپس کے اختلافات بھلا کر حُب ِ رسول کی بنیا د پر متحد ہونا ہوگا۔ اجتماع میں مولانا ابرار احمد رحمانی نے خطاب میں کہاکہ شاہ صاحب نے بحیثیت ممبر قومی اسمبلی پاکستان کا دستور اسلامی رکھنے، پارلیمنٹ میں توہین رسالت کے قانون 295 سی کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ علم و استقامت کا سر چشمہ تھے، سانحہ نشتر پارک دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود اسلام اور ملک دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ دیگر مقررین نے علامہ شاہ تراب الحق قادری ؒ کی دینی و ملی، سماجی و سیاسی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدو جہد کا اوّلین مقصد دین مصطفی کی سر بلندی اور ملک ِ پاکستان کا استحکام ہونا چاہیے، یہی علامہ شاہ تراب الحق قادری کا مشن رہا۔ شاہ صاحب ایک مثالی عالم دین تھے ان کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی رہے گی۔ دین مصطفوی کی صحیح معنوں میں ترویج و اشاعت کیلئے شاہ تراب الحق جیسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب سے محبت کرنے والے دین اسلام اور پاکستان کے استحکام کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا ئیں۔ اجتماع میں شیخ الحدیث مفتی اسماعیل ضیائی، حاجی حنیف طیب، مفتی شاہ حسین گردیزی، علامہ خرم ریاض، علامہ سید عبد الوہاب قادری، علامہ عبد الحفیظ معارفی، ڈاکٹر فرید الدین قادری، علامہ رئیس قادری، مفتی عبد الرحمان، علامہ اکرام المصطفی، مولانا انتصار المصطفیٰ، مولانا کامران قادری، حاجی عبد القادر پردیسی، مولانا جمیل احمد امینی، عبد الغفار برکاتی، مولانا نذر حسین شاہ، صاحبزادہ صلاح الدین صدیقی، علامہ یونس شاکر، سید رفیق شاہ، سید شاہ سراج الحق، سید شاہ فرید الحق، مفتی ناصر خان ترابی، علامہ رئیس قادری، قاضی نو ر الاسلام، غفران احمد، علامہ اشرف شاد، مفتی بلال، مولانا عاشق سعیدی، مولانا راشد رضوی، اظہر خان، قاری سعید احمد قاسمی، ڈاکٹر عبد الرحیم، سید اللہ رکھا، علامہ عرفان ضیائی، مولانا الطاف امجدی، مولانا معراج الدین، احمد رضا طیب، قاری محمد علی، مولانا محی الدین، مفتی احمر، سلیم الدین شیخ کے ساتھ ساتھ مذہبی، سیاسی، سماجی شخصیات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد خصوصاً شاہ صاحب کے محبین کثیر تعداد میں شریک تھے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے