محراب پور(رپورٹ: امداد اللہ ملک) پاک وطن پر جان کی بازی لگانے والوں میں محراب پور کے فوجی جوان بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ تحصیل بھر کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے کئی فوجیوں نے ملک کی سالمیت کے دفاع کے دوران پاک سرزمین پر جام شہادت نوش کیا محراب پور کی مٹی میں جنم لینے والے امیر بخش گھانگھرو نے کارگل کی جنگ کے دوران 20 جولائی 1999 کو ساچن میں، نواحی علاقے کاچھو حاجی سے تعلق رکھنے والے شہید سپاہی محمد شریف راجپر نے21 اگست 2013 کو وانا آپریشن میں، نیو ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے شہید محمد حنیف نے چھمپ سیکٹر میں دوران ڈیوٹی 1971 کی جنگ میں، شہید حاکم علی نے 9 اپریل 2007 کو بلوچستان آپریشن میں ، بہلانی سے تعلق رکھنے والے شہید امداد حسین سہتہ نے 6 جنوری 2010 کو کوہاٹ میں، گاؤں سیفل منگریو کے شہید علی گوہر نے 11 نومبر 2016 کشمیر یارڈ کے مقام پر، گاؤں ساون سہتو کے شہید صاحب زادو نے 04 اگست 2004 چھورسیکٹر، گاؤں نور محمد عامر کے شہید شاہ نواز نے 7 اکتوبر 2007 کو حاصوخیل مرعلی، گاؤں لائق خاصخیلی کے شہید رضا محمد نے 5 جون 2009 جنڈولا وانا میں، گاؤں میر محمد سولنگی کے شہید نصیر احمد نے 13 نومبر 2009 کو پشاور، گاؤں سلطان آرائیں کے شہید عبدالستار نے یکم اپریل 2010 کو رزمک ، گاؤں کوڑو خان سہتو کے شہید اظہار علی نے 12 جنوری2011 کو سروک فورٹ، گاؤں حاجی خیر محمد ڈاہری کے شہید راشد علی نے10 فروری2011 کو وانا میں ، گاؤں قادر بخش کے شہید اکرم علی نے 13 اگست 2012 کو پشاور، گاؤں جمعہ خان میر جٹ کے شہید محمد سلیم نے 10جولائی 2016 کو ٹانک میں جام شہادت نوش کیا شہید فوجیوں کے ورثاء آج بھی اپنے پیاروں کی شہادت پر فخر محسوس کرتے ہیں شہید سپاہی امیر بخش کے فرزند ولید گھانگھرو اور شہید سپاہی محمد شریف کے والد صالح راجپر کا کہنا تھا کہ وطن پر سرقربان کرنے والے ہمارے اپنوں نے ملکی سالمیت پر اپنی جان کا نذرانہ دیکرہمارا سینہ چوڑا کیا ہمیں اپنے خون پر ناز ہے کہ ہم شہید سپاہیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں پاکستانی فوج ہماری حفاظت پر معمور ہے جس کی بدولت ہی ملک میں امن و امان ہے اس ملک پر شہید فوجی جوانوں کی طرح ہماری جان بھی قربان ہے اور کبھی موقع ملا تو ہم بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔
![]()