کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) حروں کے روحانی پیشوا اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ پیر صاحب پگارا نے کہا ہے کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے، پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے صوبے کی زراعت کو بھی تباہ کردیا اگر یہی صورتحال برقرار رہی توسندھ کے لوگ آئندہ کس طرح گزارہ کریں گے؟ پانی کی قلت، کرپشن اور سیاسی اقربا پروری نے سندھ کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو کنگری ہاﺅس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پیر صدر الدین شاہ راشدی،ایاز لطیف پلیجو، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، سردار رحیم، ڈاکٹر صفدر عباسی، سید مظفر حسین شاہ ، طارق حسن اور دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں جی ڈی اے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ پیر صاحب پگارا نے کہا کہ سندھ کو اس وقت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ کرپشن ہے، موجودہ حکومت کو اس کرپشن کا حساب ضرور دینا پڑے گا اور کرپشن کرنے والے احتساب سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اور گورننس کے تحفظ کا وقت آگیا ہے۔ اجلاس میں جی ڈی اے کے سکریٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو نے سندھ کے عمومی حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں گذشتہ 30 دن میں غربت کے سبب 15 خودکشیاں ہوئی ہیں، 17 بچوں کا اغوا ہوا ہے اور ہر طرف لاقانونیت کا راج ہے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر صدر الدین شاہ راشدی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں سندھ کی سیاسی صورتحال اور اتحاد کو وسعت دینے پر غور کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے سندھ کے لوگوں کو بہتر گورننس اور متبادل سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی سندھ میں تبدیلی کی بات نہیں کی جس دن فیصلہ کریں گے میڈیا کو بلاکر بات کریں گے۔ ڈاکٹر ذولفقار مرزا کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگ غربت اور لاقانونیت کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ خصوصاً بدین میں پانی کی قلت کے باعث لوگوں کی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ اب ان کو پیمپرز پہننے پڑ رہے ہیں کیونکہ پانی ختم ہوچکا ہے لیکن پی پی والے سب زرداری صاحب کے لئے پیمپرز خریدنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گونرسندھ اوروزیراعظم سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے لئے پانچ لاکھ نوکریوں کا اعلان کیا جائے، ترقیاتی کاموں کے لئے خصوصی فنڈز فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کے والد کی بانی ایم کیو ایم کے ساتھ بزنس پارٹنر شپ ختم نہیں ہوئی اس لیئے بلاول نےان کے حق میں بیان دیا۔ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں لاقانونیت عروج پر ہے۔ بھوک افلاس کا دور ہے جس کی وجہ سے 15 زائد لوگ بھوک کے مارے خودکشیاں کرچکے ہیں،معصوم بچیوں کی عصمت زری کے واقعات رونما ہورہے ہیں، بدین میں پینے کا پانی نہیں ہے، کاچھو میں ماں اور بیٹا پانی کی تلاش میں موت کا شکار ہوئے، بارشیں شروع ہیں حکومت کی کوئی تیاری نہیں ہے، سندھ کو ایڈز ذدہ کردیا گیا، ٹڈی دل نے تباہی مچادی لیکن حکومت سورہی ہے سندھ کی فصلیں تباہ ہوگئیں لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی ہے جو پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، پیرصدرالدین شاہ، مرتضی جتوئی، صفدرعباسی اور ایاز لطیف پلیجو دیگر افراد سے سیاسی رابطے کریں گے۔ صفدر عباسی نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام سے کہتے ہیں کہ وہ کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں انہیں اسی صورت میں انصاف مل سکتا ہے۔ جی ڈی اے کے اجلاس میں آج کئی اہم رہنماﺅں کی عدم شرکت سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ کوئی ناراضگی نہیں بلکہ ان کی بعض مصروفیا ت تھیں۔ایاز لطیف پلیجو نے گھوٹکی کے حالیہ ضمنی انتخاب میں پی پی کی کامیابی پر کہا کہ گھوٹکی میں پولیس کو مینج کرکے الیکشن جیتا گیا۔
![]()