میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) فلھڈیوں میں توہین مذہب کے نام پر لوٹ مار اور املاک جلانے کے الزام میں فلھڈیوں پولیس اسٹیشن پر دو الگ الگ مقدمات درج۔ دونوں ایف آئی آرز میں سو کے قریب نامعلوم ملزمان نامزد۔ ایف آئی آرز میں دہشتگردی ایکٹ کے دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ واقعے میں ملوث چھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ واقعیات کا مقدمہ ایس ایچ او فلھڈیوں انسپیکٹر ذاہد حسین لغاری کی مدعیت میں سو کے قریب افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے جس میں قادر مری، خان محمد شر، معشوق مری، خیر الدین شر، رسول بخش اور ودھو مری کو دونوں ایف آئی آراز میں نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 23 اور ایف آئی آر نمبر 24 میں دہشتگردی ایکٹ کے علاوہ ڈکیتی، اقدام قتل، دھمکیاں دینے، املاک جلانے اور جلاؤ گھیراؤ خوف و ہراس پھیلانے کے دفعات شامل ہیں۔ گزرشتہ روز فلھڈیوں میں مقامی وٹنری ڈاکٹر رمیش مالہی کی جانب سے مذ ہبی توہین کرنے کے الزام میں فلھڈیوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی شہر بند کرانے کے ساتھ ساتھ تین دکانیں نظر آتش کردی گئیں تھیں واقعے کی اطلاع کے بعد ایس ایس پی میرپورخاص جاوید بلوچ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ فلھڈیوں پہنچیں تھے۔ مذہبی توہین کے الزام میں ڈاکٹر رمیش مالہی کے خلاف 295 بی 295 اے کے تحت مولانا اسحاق نہڑی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ دوسری جانب اس واقعے کی انکوائری کرنے کے لیے ایس ایچ او اولڈ میرپور پولیس اسٹیشن انسپیکٹر کنور سنگھ کو انویسٹیگیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی میرپورخاص جاوید بلوچ نے بتایا کہ مذہبی دل آزاری کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے اور جلاؤ گھیراؤ کو براشت نہیں کیا جائے گا واقعیات کے مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے اور اس واقعے کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ دوسری جانب فلھڈیوں واقعے پر ایم پی اے سید ذوالفقار علی شاہ نے آج فلھڈیوں کا دورہ کیا اور دونوں فریقین کا موقف جانا۔ دوسری جانب علماء ایکشن کمیٹی میرپورخاص کے رہنماء مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا حفیظ الرحمان فیض و دیگر رہنماؤں اور تاجر رہنما امین میمن اور انیس الرحمان نے اپنے مشترکہ بیان میں ایس ایس پی میرپورخاص جاوید بلوچ اور انکی ٹیم سی آئی اے انچارج عنایت زرداری، ڈی آئی بی انچارج دانش، ایس ایچ او میر محمد کیریو و دیگر افسران کا شکریہ ادا کیا جنہوں نےفلھڈیوں میں بہترین حکمت عملی سے پورے ڈویژن کو بہت بڑی آگ سے بچایا سخت گرمی اور روزے کی حالت میں مسلسل روڈ پر موجود رہ کر لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا اور توہین کرنے والے ڈاکٹر اور شرپسندوں کے خلاف فورا قانونی کاروائی کرکے علاقے کے امن کو بحال کیا۔
![]()