ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ اسماعیل خان میں سوشل میڈیا پر ذخیرہ شدہ ڈالرز نکالنے کی مہم شروع ہوگئی جس میں عوام سے گھروں میں رکھے ڈالر باہر لاﺅ اور ملک کو بحران سے بچاﺅ کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر محب وطن صارفین عوام سے ذخیرہ شدہ ڈالرز بیچ کر اپنی کرنسی مستحکم کرنے کی اپیل کرنے لگے۔ ڈالر کے خلاف سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آواز کو عوامی سطح پر بھی سراہا جانے لگا، شہریوں کا کہنا ہے اگر لوگ اس پر عمل کریں تو پاکستان کی کرنسی پھر سے مستحکم ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستانی اشیا خریدنی چاہئیں تاکہ امپورٹ بل میں کمی آئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر امپورٹڈ اشیاء کی بجائے میڈ ان پاکستان پراڈکٹس کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بائیکاٹ ڈالر مہم پورے زور و شور سے جاری ہے جس کے ذریعے عوام کو حقائق سے بھی آگاہ کیا جارہا ہے کہ شہریوں کی طرف سے دھڑا دھڑ ڈالر کی خریداری کی وجہ سے مصنوعی بحران پیدا ہوا، پاکستانی قوم بائیکاٹ کردے تو ڈالر کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ ڈالر کا بائیکاٹ کریں ترکوں کی طرح غیرت مند بنیں۔ ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا کہ اپنے ملک کی کرنسی کو سہارا دینے کے لئے پاکستانی کرنسی خریدو اور ڈالر کا عملی طور پہ بائیکاٹ کرو۔ ایک صارف نے تو ڈالر بیچنے کے لیے اللہ کا واسطہ دے دیا اور کہا کہ دو، اللہ کا واسطہ بیچ دو!۔ کچھ لوگوں نے تو محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے پاس موجود ڈالر نذر آتش بھی کر دیے۔ سوشل میڈیا پر ترکی کی مثالیں بھی دی جارہی ہیں جہاں گذشتہ برس ڈالر نے لیرا کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی مگر ترک عوام اس سے گھبرائی نہیں اور سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈالر کے آگئے کھڑے ہوگئے، انھوں نے ثابت کیا کہ امریکی کرنسی نے ان کیلئے محض ٹشو پیپر ہے، جس کے نتیجے میں چند ہی روز میں لیرا نے ڈالر کو چاروں شانے چت کردیا تھا۔
![]()