Home / اہم خبریں / سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے قائم ہونے والی میگا پروجیکٹ نگران کمیٹی کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے

سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے قائم ہونے والی میگا پروجیکٹ نگران کمیٹی کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے

میرپورخاص (رپورٹ: ہاشم شر) سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر 10 ماہ کی تاخیر سے قائم ہونے والی میگا پروجیکٹ نگران کمیٹی کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے غیر معیاری کام، سست رفتاری، ناقص مٹیریل کے استعمال اور ماہرین کی غیر موجودگی میں جاری پروجیکٹ سے متعلق سوالات کئے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ گلی محلوں کی بنیاد پر کھلی کچہری منعقد کرنے اور سیاسی، سماجی، مذہبی، تاجران، تعلیمی ماہرین، مقامی حکومت کے منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی سمیت عام شہریوں کی جانب سے میگا پروجیکٹ کی سخت نگرانی کا اعلان کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں جاری سیوریج کے میگا پروجیکٹ کے حوالے سے ایڈوکیٹ ممتاز جروار کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر جاری میگا پروجیکٹ کی نگرانی کے لئے شہریوں پر مشتمل کمیٹی جوکہ سندھ حکومت کی طرف سے 10 ماہ کی تاخیر سے بنائی گئی۔ جس میں پٹیشنر ایڈوکیٹ ممتاز جروار اور سول سوسائٹی کے رہنما محمد بخش کے اعزاز میں عوام کی جانب سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کے میزبان اور معروف سیاسی و سماجی رہنما راجہ عبدالحق نے کہا کہ ہم سول سوسائٹی کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اربوں روپے کے اس پروجیکٹ میں بد معاملگی پر پٹیشن داخل کی جس پر معزز عدالت نے مقامی شہریوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جس پر سندھ حکومت نے 10 ماہ کی تاخیر سے عمل درآمد کیا، انہوں نے مزید کہا کہ شاید اس پروجیکٹ کی بنیادی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جبکہ اس طرح کے پروجیکٹ جب پنجاب میں کئے جاتے ہیں عوام کو ان کی مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں معلومات تو دور کی بات مگر جب تفصیلات لینے کی کوشش کی جائے تو بھی کوئی نہیں بتاتا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ یہ پروجیکٹ بند کردیا جائے لیکن یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ کام کو مناسب انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ اس کا فنڈ ضائع نہ ہوسکے۔ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ ہم سب ساتھ ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پروجیکٹ کی تفصیلات عام کی جائیں۔ یوسی کاک کے چئیرمین محمد رفیق لغاری نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی سرکاری پروجیکٹ کی نگرانی کے لئے شہریوں پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہو۔ ہم ہائی کورٹ کے شکر گزار ہیں جس نے یہ ممکن بنایا۔ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اچھے کام کی تعریف اور خراب کارکردگی پر تنقید کریں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر مہینے ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں میٹنگ رکھی جائے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں اور کمیٹی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کام میں شفافیت کو یقینی بنائے۔ ماہانہ بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں میں کھلی کچہری رکھی جائے اور عوام کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ عوامی مقامات پر کیمپ لگا کر عوام سے تجاویز لی جائیں اور کمیٹی ممبران کے فون نمبر سب شہریوں کو فراہم کئے جائیں تاکہ کسی بھی شکایت یا تجویز کو سنا جاسکے۔ سابق ناظم یوسی ملک لیاقت نے کہا کہ رنگ روڈ پر بننے والا نالہ پہلے والے نالے سے بھی چھوٹا ہے جس کی وجہ سے برساتی پانی کی نکاسی مشکل ہوگی۔ صحافی خلیل احمد نے کہا کہ نالے کے نیچے نہ تو سی سی ڈالی گئی اور نہ پتھر بچھائے گئے ہیں۔ اور کہیں ایسا بھی ہے کہ نالے کے درمیان سے 18 انچ کی پائپ لائن بھی گزر رہی ہے۔ اس نشست میں علی حسن نون، خالد پرویز، مسعود عباس، یعقوب خاور، نواب قریشی، جابر مجید، ملک لیاقت علی، ڈاکٹر منٹھار تھیبو، ایڈوکیٹ انجم شہزادی، حسن ہنگورنو، مفتی محمد شریف سعیدی، فیصل خان زئی، نعمان ہالیپوٹو، عاصم شیخ، شہزادو ملک اور دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کی معلومات کے لئے شہر میں ایسے بورڈ لگائے جائیں جس پر تمام تفصیلات درج ہوں اور نقشہ بھی موجود ہو۔ اور اگر میگا پروجیکٹ پر شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو ہم پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کا واضح مؤقف: بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دینے کا عزم

اسلام آباد، (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے