تازہ ترین
Home / اہم خبریں / چیچہ وطنی کسووال کے چک 16/14 ایل میں ایلیٹ پولیس اہلکار کا بھائیوں کے ہمراہ رشتےدار کے گھر پر دھاوا اہل خانہ کو اسلحہ کے زور پر زد و کوب، نقدی اور طلائی زیور لے اڑے

چیچہ وطنی کسووال کے چک 16/14 ایل میں ایلیٹ پولیس اہلکار کا بھائیوں کے ہمراہ رشتےدار کے گھر پر دھاوا اہل خانہ کو اسلحہ کے زور پر زد و کوب، نقدی اور طلائی زیور لے اڑے

چیچہ وطنی (رپورٹ: شاہد عباس سیال) چیچہ وطنی کسووال چک 16/14 ایل کے رہائشی سرفراز احمد کے گھر ایلیٹ پولیس اور پنجاب پولیس کا دھاوا نام نہاد پولیس اور ایلیٹ پولیس کے جوان سرفراز کے گھر سے نقدی اور طلائی زیور لے اڑے، تفصیلات کے مطابق کسووال کے چک 16/14 ایل کے رہائشی سرفراز احمد کے گھرپر پولیس اور ایلیٹ پولیس کا دھاوا, محمد تنویر ولد محمد شریف جوکہ ایلیٹ پولیس کا ملازم ہے اس نے اپنے چار بھائیوں محمد لطیف، محمد ادریس اور محمد ندیم کے ساتھ ملکر سرفراز احمد کے گھر پر حملہ کیا جس میں پنجاب پولیس کے دس نوجوان بھی شامل تھے، محمد تنویر اور سرفراز احمد آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں اور ان کے گھر بھی ساتھ ساتھ ہیں، محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ملکر اپنے گھر کی چھت سے سرفراز احمد کے گھر میں اسلحہ لہراتے ہوۓ داخل ہوۓ جبکہ پنجاب پولیس گھر کے باہر کھڑے تماشا دیکھتی رہی، محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوۓ سرفراز احمد کے گھر میں داخل ہوا سرفراز کی بیوی زینت بی بی جوکہ ٹی بی کی مریض بھی ہے گھر میں اپنے بچوں کے ہمراہ روزہ افطاری کی تیاری میں مصروف تھی آتے ہی محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم نے پسٹل کا بٹ زینب بی بی کو دے مارا جو اس کے سینے پر لگا اور وہ موقع پر ہی بے حوش ہوگئی، محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم نے اسلحہ کے زور پر گھر کی تلاشی لینی شروع کر دی اور محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم کے بھائی سرفراز احمد کے جوان بچوں جوکہ حالت روزہ میں تھے ان پر تشدد کرنا شروع کر دیا، حوا کی بیٹوں کے سروں سے دوپٹے اتار دیے اور ان کو گھر کے صحن میں مارنا پیٹنا اور بالو سے پکڑ کر گھسیٹنا شروع کردیا یاد رہے اس سارے واقعے کے دوران پنجاب پولیس تماشائی بنی رہی، محمد تنویر نے جب تلاشی وغیرہ لے لی تو جاتے ہوۓ اپنے بھائیوں کے ہمراہ دھمکیاں دینے لگے کہ میں تم سب کو قتل کر دو گا تم مجھے جانتے نہیں میں ایلیٹ پولیس میں ہوں کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور جاتے ہوۓ بیٹھک کا دروازہ تھی توڑ گئے جب گھر میں موجود بچوں نے کمرے میں جا کر دیکھا تو گھر میں موجود نقدی اور طلائی زیور گھر میں موجود نہ تھے زینب بی بی نے اس واقعہ کے خلاف ڈی ایس پی ساہیوال، ڈی پی او ساہیوال، آئی جی پنجاب، وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ مجھے انصاف دیا جاۓ اور میری جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاۓ اگر میرے شوہر اور بچوں کو کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار محمد تنویر ایلیٹ پولیس ملازم ہوگا۔ 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے