راجن پور (رپورٹ: انعام باری) راجن پور شدید سیلابی ریلے نے علاقہ پچادھ گورچانی کے مواضعات لنڈی سیدان، لعل گڑھ، بمبلی، ہڑند، گرکنہ وزیری، ٹھل چانگ، برکتو، شلوبہ، ٹھل وزیر، چٹول، سونمہ، واہ لشاری اور میراں پور میں تباہی مچا دی ہے اور آ گے کے مواضعات جن میں حاجی پور، سون واہ، نور پور، محمد ہوڑا، چک مھیسر اور درجنوں مواضعات میں نقصانات کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جاسکتا ہر طرف رود کاہا کے پانی میں غریبوں کی سال بھر کی روزی گندم کے گٹھوں کی صورت میں تیر رہی ہے اہل علاقہ کی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار، ڈپٹی کمشنر راجن پور اور اسسٹنٹ کمشنرز سے گذارش ہے کہ متاثرین کی مالی امداد کرائیں اور موقع پر علاقے کا وزٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دیں جبکہ ریسکیو و دیگر ٹیمیں سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مگن ہیں سیلاب کے پانی میں سانپ و دیگر مہلک جانور کی بہتات اور موذی امراض کے پھیلنے کی وجہ سے ڈی سی راجن پور کے حکم پر میڈیکل کیمپ لگا دیے ہیں۔ یاد رہے کل گذشتہ تک گذرنے والے سیلابی ریلے کا پانی 70 ہزار کیوسک تھا جوکہ 2010 میں آنے والے سیلاب کی مقدار کے برابر تھا مگر کل گذشتہ سارا دن تیز ہواؤں کے ساتھ طوفانی بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے جس سے کچی کنال میں کئی جگہوں پر شگاف پڑ گیا ہے۔
![]()