کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) مطالبات کی منظوری کے لئے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والے محکمہ پاپولیشن کے ملازمین پر پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ، مرکزی رہنماؤں سمیت 20سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا، تفصیلات کے مطابق مطالبات کی منظوری کے لئے محکمہ پاپولیشن کے ملازمین کا کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے، مظاہرین کی جانب سے وزیر اعلی ہاؤس کی جانب جانے کی کوشش پر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی، بعدازاں مظاہرے کو کراچی پریس کلب کے سامنے سے گزرنے والی ذیلی شاہراہ تک محدود کردیا گیا، دھرنے میں موجود عبد الوحید چانڈیو و دیگر نے نمائندہ نوپ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدھ کے روز سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے کراچی پریس کلب کے سامنے پر امن احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود ہے تاہم کسی بھی ذمے دار کی جانب سے نوٹس نہ لئے جانے کے بعد انہوں نے فوارہ چوک سے آرٹس کونسل چورنگی کی جانب جانے والے شاہراہ پر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار ان پر ٹوٹ پڑے، لاٹھی چارج اور بد ترین تشدد کے باعث تین خواتین ارشاد بی بی، شبنم اور رفعت سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے ان کی حالت غیر ہوگئی، پولیس نے ان کے مرکزی رہنماؤں پیرل داؤد، سید ذوالفقار علی شاہ، لقمان بگھیو اور ندیم کھوڑو، فتح سروہی، یونس اتہرو، شاہد بھٹو، ذاکر ابڑو، حسیب اللہ ، حنیف سمیت 20 افراد کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا گیا ہے اور کسی کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے کہ احتجاج میں موجود مزید 9 افراد کو گرفتار کرکے تمام کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا، مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بہبود آبادی پروگرام کی کامیابی کے لئے طویل عرصے تک جدوجہد کی ہے، ابتدا میں اس حوالے سے رابطہ کرنے پر انہیں عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تمام تر مشکلات کے باوجود انھوں نے شب و روز محنت کرکے اس پروگرام کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ شہری خود اس سلسلے میں رجوع کر رہے ہیں تاہم سی آئی پی پروجیکٹ میں ہونے والی بے پناہ کرپشن اور اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لئے آوازبلند کرنے پر انہیں ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ محکمے میں حدود سے تجاوز کرجانے والی رشوت ستانی کو ارباب اختیار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث ملازمین کی فلاح و بہبود اور انہیں سہولیات کی فراہمی کے لئے مختص کیے جانے والے فنڈز بھی خورد برد کیے جا رہے ہیں تاہم وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے سروں پر کفن باندھ کر احتجاج کر رہے ہیں جبکہ دھرنے میں شریک خواتین اپنے گھر بار اور بچے چھوڑ کر کراچی پریس کلب کے سامنے موجود ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
![]()