Home / اہم خبریں / سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جنید علی شاہ پی سی بی پر برس پڑے، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے والے اب کراچی والوں کو رمضان کرکٹ فیسٹول سے بھی محروم کردینا چاہتے ہیں

سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جنید علی شاہ پی سی بی پر برس پڑے، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے والے اب کراچی والوں کو رمضان کرکٹ فیسٹول سے بھی محروم کردینا چاہتے ہیں

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جنید علی شاہ پی سی بی پر برس پڑے، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے والے اب کراچی والوں کو رمضان کرکٹ فیسٹول سے بھی محروم کردینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا این اوسی کے بدلے 15 لاکھ اور 5 لاکھ روپے مانگنا شہر قائد میں 30 برسوں سے جاری رمضان کرکٹ کی رونقیں ختم کرنے کے مترادف ہے۔سابق چیئر مین نجم سیٹھی نے گزشتہ سال اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے فیس ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ رمضان کرکٹ کھیلنے والے ہارون رشید جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر کھیل و ڈاکٹر ایم اے شاہ رمضان کرکٹ فیسٹول کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر جنید علی شاہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک بار پھر رمضان فیسٹول کرکٹ ٹورنامنٹ کی این اوسی کے بدلے بھاری فیس جمع کرانے کا پروانہ ملنے کے بعد پی سی بی پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں کہا ہے کہ کراچی میں گزشتہ تیس برسوں سے رمضان فیسٹول کرکٹ کھیلی جارہی ہے، اب یہ کرکٹ کراچی کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ رمضان کرکٹ جہاں ملک بھر کے کرکٹرز کو کراچی آکر کھیلنے اور ان کی مالی حالات کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے وہی یہ کراچی کے پر امن تصور کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ماضی قریب میں جب شہر قائد میں دہشت گردی کا بازار گرم رہا کرتا تھا، پی ایس ایل کے میچز کا انعقاد بھی نہ ممکن تھا ایسے حالات میں بھی برقی قمقموں کی روشنی میں کھیلی جانے والی رمضان کرکٹ دنیا کو پرامن اور روشن کراچی کا پیِفام دینے کا واحد ذریعہ تھا، گزشتہ سال سابق چیئر مین نجم سیٹھی نے رمضان کرکٹ کی این اوسی کے لیئے ٹی وی پر براہراست دیکھائے جانے والے ٹورنامنٹ کے لیئے پندرہ لاکھ اور براہ راست نہ دیکھائے جانےوالے ٹورنامنٹ کی این اوسی کی فیس 5 لاکھ روپے طلب کرنے کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے آئندہ سال 2019 میں اسے ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ نجم سیٹھی نے اسے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید کا کارنامہ قراردیا تھا تاہم ان کا ماننا تھا کہ بھاری فیس سے کرکٹ کو نقصان ہوگا۔ ڈاکٹر جنید کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے دعوے داروں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ کوئی بھی آرگنائزر رمضان کرکٹ فیسٹول کا انعقاد پیسے کمانے کے لیئے نہیں بلکہ اپنے شہر کی ذمہ داری سمجھ کر کرکٹرز کو کھیلنے اور کراچی کی رونق بحال کرنے کے لیئے کراتا ہے۔ ڈاکٹر ایم اے شاہ رمضان ٹرافی گزشتہ تیس برسوں سے جاری ہے گزشتہ سال پانچ لاکھ روپے ادا کر کے این اوسی لینے کا مقصد پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کرکٹرز کو کھیلنے کا موقع فراہم کرناتھا جبکہ ٹی وی پر براہراست نہ دیکھائے جانے پر شائیقین کرکٹ سخت مایوس ہوئے تھے۔ امید تھی کہ پی سی بی کے نئے چیئرمین احسان مانی بھاری فیس کے مسئلے پر نظرثانی کریں گے لیکن ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر کے کھلاڑیوں پر روزگار کے دروازے بند کرنے والوں سے بھلائی کی امید رکھنا فضول ہے۔ ہارون رشید اصغر علی شاہ اسٹیڈیم اور کراچی جیمخانہ میں خود بھی رمضان کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اس کے باوجود اپنی نوکری پکی کرنے اور بورڈ سے چپکے رہنے کی عادت کے باعث وہ اپنے ساتھیوں کے دشمن ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا تھا مجھ جیسا جھوٹا آرگنائزر مزید رمضان کرکٹ جاری نہیں رکھ سکے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کراچی اور کھلاڑیوں کے حق میں بھاری فیس کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ پاکستان میں آسٹریلیا کے ڈومیسٹک سسٹم کی کاپی کرنے والے زمینی حقائق سے لاعلم لگتے ہیں۔ آسٹریلیا کے دو کروڑ کی آبادی پر مشتمل ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم کو چھ ٹیمیں بناکر پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے نتائج خطرناک ہونگے۔ اگر آسٹریلوی سسٹم کے تحت ٹیمیں بنانا ہے تو پھر 65 ٹیمیں بنائی جائے اور کھلاڑیوں کے ذریعہ معاش کے لیئے منظم منصوبہ بندی کی جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے