نوشہرو فیروز (رپورٹ: امداداللہ ملک) پیروسن پولیس گردی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کرنیوالی سیاسی، سماجی تنظیموں کے رہنماؤں سمیت صحافیوں پر پولیس نے مقدمہ درج کردیا، خواتین کا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق مسمات شمیم آرائیں، صباء آرائیں، کلثوم آرائیں، کرن آرائیں، ساجدہ آرائیں، مسمات اکبری، مسمات راحیلہ کی قیادت میں پچاس سے زائد خواتین نے اسکول چوک سے یونین کونسل ٹنڈو میرعلی تک احتجاجی نکال کر دھرنا دیا خواتین نے ایس ایچ او پیروسن سدھیرو لاشاری، عظیم شر کے خلاف سخت نعرے بازی کی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صباء آرائیں اور دیگر نے کہا کہ پیروسن پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف گذشتہ روز ٹنڈو میر علی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے والے پرامن سیاسی، سماجی، تاجر رہنماؤں غلام مصطفی ولد عبدالقوم آرائیں،غلام مصطفی ولد عبدالرشید آرائیں، امتیاز شیخ، محمد حسین ولد لعل الدین بھٹہ، احد ولد عبدالمجید آرائیں، محمد افضل آرائیں، راشد ولد محمد الدین آرائیں، افضل ولد عبدالحمید آرائیں، گلشن علی، محمد شریف سومرو اور صحافی عظیم آرائیں کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ نمبر درج کردیا ہے جس کے خلاف ہم احتجاج پر مجبور ہیں کیونکہ ایس ایس پی خیرپور، ڈی آئی جی سکھر راشی ایس ایچ او پیروسن کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں تحفظ دے رہے ہیں جس کا ثبوت چادر، چار دیواری تقدس کی پامالی، خواتین پر تشدد، گھر میں لوٹ مار اور رشوت طلبی پر پرامن احتجاج کرنے والے سیاسی، سماجی، تاجر رہنماؤں پر درج جھوٹا مقدمہ ہے جس میں ایک مقامی صحافی عظم آرائیں کو شامل کردیا ہے جس کا قصور مظلوم عوام کی آواز میڈیا تک لانا ہے اگر سیاسی، سماجی، تاجر رہنماؤں پرمقدمہ واپس نہ لیا گیا تو جمعے کے روز باغ بچرا کے مقام پر خواتین دھرنا دیں گی دوسری طرف کونسلر عبدالمجید آرائیں، نمبر دار، کونسلر حاجی بشیر احمد، محمد افضل آرائیں، فنکشنل مسلم لیگ کے غلام عباس، سنی تحریک کے چوہدری ارشد قادری، شہری اتحاد کے صدر طالب حسین ملک، تاجر ایسوسی ایشن کے غلام مرتضیٰ آرائیں نے کہا کہ جھوٹا مقدمہ حق و سچ کی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہے لیکن ڈرنے والے نہیں ہیں اور پولیس گردی کے خلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا، پولیس گردی کیخلاف آج تنڈو میرعلی شہر میں دوسرے روز بھی تمام کاروباری مراکز بند رہے۔
![]()