ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ضلع بھر میں نیا تعلیمی سال قریب آتے ہی طلبہ و طالبات کی یونیفارم اور جوتوں کی قیمتوں میں پناہ اضافہ، والدین سخت ذہنی تناﺅ کا شکار، طلباء و طالبات کو یونیفارم اور جوتوں کی قیمتوں میں دکانداروں نے خود ساختہ اضافہ کرکے غریب والدین کو پریشانی سے دوچار کرنے سمیت نچلے طبقہ کے لئے تعلیم کا حصول انتہائی دشوار بنادیا۔ کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے والدین کے لئے دیگر تعلیمی اخراجات پورے کرنے پہلے ہی ایک چیلنج تھے اوپر سے یونیفارم اور جوتوں کی قیمتوں میں اضافہ حالات کے ستائے والدین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ کے افراد کے لئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت نہ کرسکنے کے ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں کی یونیفارم اور جوتوں کو ہی خریدنا محال دکھائی دیتا ہے۔عوامی حلقوں اور طلبہ و طلبات کے والدین نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ، ڈی ای او محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ و طالبات کی یونیفارم اور جوتوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کی بجائے پچاس فیصد کمی کرکے والدین کو ریلیف دیا جائے تاکہ بہتر تعلیم حاصل کرکے بچے معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
![]()