سانگھڑ (رپورٹ: رضوان احمد غوری) میں جینا چاہتی ہوں، زندگی ہنستے مسکراتے گزر رہی تھی بی ایس سی کلاس میں اپنی تعلیم حاصل کر رہی تھی زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جزبہ تھا یہ کہنا ہے سانگھڑ کی بیٹی بیس سالہ یمنٰی صدیقی کا۔ مگر مجھے پتہ نہیں تھا کہ میری زندگی کے سامنے پہاڑ جیسی موزی مرض کینسر کالی چٹان بن کر کھڑی تھی۔ اچانک طبیعیت خراب ہوئی تو والدین اسپتال لے گئے پتہ چلا کہ مجھے کینسر کا مرض ہے میں ہمت نہیں ہار رہی مگر مالی حالات ساتھ نہیں دے رہے ایک دو لاکھ کی بات نہیں بلکہ ڈاکٹروں نے بون میرو کے ستر لاکھ روپے خرچ بتایا ہے میرے والدین کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ اتنے اخراجات برداشت کرسکیں گھر کی جمع پونجی خرچ کردی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے مجبور ہو کر آپ بھائیوں سے گزارش ہے میری زندگی بچانے کے لئے میرا ساتھ دیں میرے علاج کے لئے جس طرح ممکن ہو مدد کریں ۔ میری وزیراعظم عمران خان وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی مطالبہ ہے کہ میرا سرکاری سطح پر علاج کرایا جائے کیونکہ میں جینا چاہتی ہوں مزید معلومات اور مدد کے لیے یمنٰی کے بھائی حمزہ صدیقی سے نمبر پر 03453591291 رابطہ کر سکتے ہیں۔
![]()