کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈپلیکس اسمائل اگین فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو تیزاب سے متاثرہ بچیوں کی مدد کرتا ہے حادساتی طور پر بھی ہوجائے تو ان بچیوں کا سہارا ہے ڈپلیکس اسمائل اگین فاونڈیشن کی روح روں مسرت مصباح نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ثناء ناز کو 2016 میں ایک شخص نے تیزاب گردی کا نشانہ بنایا تھا، جس سے ثناء ناز کے جسم اور چہرے کا بڑا حصہ متاثر ہوا تھا، ڈپلیکس اسمائل اگین فاونڈیشن نے ثناء کے لیے متعدد سرجریز کا انتظام کیا اور علاج و معالجے کے ساتھ اسے بیوٹیشن کی ٹریننگ بھی دی، یہی وجہ ہے کہ ثناء ناز ڈپلیکس بیوٹی کلینک میں خدمات انجام دے کر بہتر روزگار کما رہی ہے، اسی دوران ڈی ایف ایس کے تعاون سے ثناء ناز نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروایا، بالآخر 13 فروری 2019 کے روز ملزم کو قوانین کے مطابق 14برس قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی، مسرت مصباح کا مزید کہنا تھا کہ ثناء کی فتح کا اعلان تو مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی ہو چکا تھا، جس مہینے میں پوری دنیا میں یہ آواز بلند کی جارہی تھی کہ عورت کو عزت دو جس نے تاریخ رقم کی ہے اور خواتین و لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے، پاکستان میں تیزاب گردی کے اس مقدمے میں ثناء کی کامیابی ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ پاکستان میں خواتین کو ہراساں کیے جانے اور غلط استعمال کے خلاف متعدد تحاریک چلائی جارہی ہیں، ہمیں فخر ہے کہ نہ صرف ثناء کے مسئلے کو اٹھایا اور اجاگر کیا بلکہ قانونی طریقے سے لڑائی میں بھی حصہ لیا اور کامیابی حاصل کرکے دوسروں کو راستہ دکھایا، انھوں نے اس موقع پر امرت شردھا اور دستگیر ایڈ سینٹر کے ایڈوکیٹ ممتاز علی شاہ اور اس سلسلے میں مدد فراہم کرنے والے تمام ڈاکٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا، دی ڈپلیکس اسمائل اگین فاونڈیشن (ڈی ایس ایف) کا قیام 2003 میں عمل میں لایا گیا، جس کا بنیادی مقصد گھریلو تشدد بالخصوص تیزاب گردی اور مٹی کے تیل سے جھلس کر متاثر ہونے والی خواتین کی معاونت کرنا ہے اس موقع پر موجود ڈاکٹر احمر جنہوں نے ثناء ناز کا علاج کیا انکا کہنا تھا کہ مجرم کو جو سزا ملی ہے یہ خوشی کی بات ہے اسی طرح قانون پر عمل درآمد ہو تو اس قسم کے ریشو میں کمی آ سکتی ہے ۔ 250 قسم کے کیمیکل ایسے ہیں جو انسانی جسم کو جلاتے ہیں اور ایسے میں سب سے پہلے اس پر پانی ڈالا جائے ہمارے لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی جلے ہوئے پر نہیں ڈالنا چاہیے تو ایسے میں پانی سب سے بہتر ہے۔
![]()