ٹنڈو آدم ( رپورٹ: رضوان احمد غوری) قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک کا اہم بنیادی مسئلہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا ہے ساری حکومتیں دعویٰ تو کرتی ہیں مگر آج تک قانون کی حکمرانی ایک خواب بنی ہوئی ہے اس حکومت کو کچھ وقت مل چکا ہے اور مزید بھی وقت ملنا چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹنڈو آدم میں شہید قیصر حسین چغتائی کی چھٹی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ قانون پر عمل نہ ہونے کے باعث دن بدن مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک مفلوج بن رہا ہے اس کا حقیقی حل تلاش کرنا ہوگا اور بہتر انتظامی حکمرانی سمیت عدالتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانا پڑے گا تاکہ صحیح فیصلے آسکیں انہوں نے کہا کہ ٹنڈو آدم میں دن دھاڑے شہید کئے گئے قیصر حسین چغتائی کے مقدمے کی درست طریقے سے جانچ پڑتال نہیں ہوسکی اور کسی بھی قاتل کو سزا نہیں مل سکی ہے ایسے کئی مقدمات ہیں جس میں کسی ایک کو بھی سزا نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ صرف باتیں ہورہی ہیں کہ ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ریاست مدینہ والی حکومت کی باتیں ہیں اگر ریاست مدینہ والی حکمرانی قائم کی گئی تو اسکی بھرپور حمایت کرینگے مگر ابھی تک کوئی ایسے آثار نظر نہیں آرہے۔ اسلام کی تبلیغ اور مذہبی آزادی ہر کسی کا حق ہے مگر اس محرم کے بعد پنجاب اور خیرپور میں جو مقدمات درج ہوئے ہیں انکا جائزہ لے رہے ہیں شہری آزادی ہر کسی کا حق ہے عوام کو ڈرانا ٹھیک نہیں ہے جب تک عوام کو حقوق نہیں ملیں گے اسوقت تک ملک میں بہتری نہیں آئے گی ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی سمیت کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے مگر یہ انتظامی مسئلہ ہے کرپشن ملک کیلئے ناسور ہے جس نے ملک کو بے انتہا نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے متعلق درست بات موجودہ حکمران ہی بتا سکتے ہیں کوئی بھی نئی قانون سازی ہمیں قبول نہیں ہوگی اگر قانون کی حکمرانی ہوجائے تو ملک ٹھیک طرح سے چل سکتا ہے اب نئے قانون کا مطلب ڈاکو کے ہاتھ میں خنجر دینا ہے انہوں نے کہا کہ ارشاد رانجھانی کے مقدمے کی درست طریقے سے تحقیقات کی جائیں اصل حقائق عوام کے سامنے پیش کئے جائیں یہاں انتظامی بہتری نہ ہونے کے باعث ایسے مسائل عام ہوگئے ہیں انہوں نے ساہیوال والے واقعے کے اصل حقائق اور ملزمان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا اور ملکی عوام کو پیغام دیا ہے کہ امن بھائی چارے، اتحاد و اتفاق اور قانون پر عملدرآمد کرنے سے ہی ہمارا ملک بڑے بہتر انداز میں ترقی کرسکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہیے تھا عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ کی متفقہ ترمیم ہے جسے منتخب نمائندوں نے اکثریت سے پاس کیا ہے اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل نکالا جائے انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں کی طرح دوسرے ممالک کے حکمران یہاں آتے رہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہوں نے کہا کہ ہم امت مسلمہ کا اتفاق و اتحاد چاہتے ہیں اور ہر شخص امن اور بھائی چارے سے رہے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے برسی میں آئے ہوئے ہزاروں عزاداروں سے بھی خطاب کیا اور شہید قیصر حسین چغتائی کی آخری آرام گاہ پر پہنچ کر فاتحہ خوانی کی اس موقع پر علامہ شہنشاہ حسین نقوی، علامہ شبیر حسن، مولانا اسد علی شر، اکبر حسین چغتائی سمیت ہزاروں عزادار موجودہ تھے ٹنڈو آدم پولیس کی جانب سے اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔
![]()