ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد غوری) کتے کے کاٹنے سے دوئم جماعت کا طالبعلم شدید زخمی سرکاری اسپتال میں ویکسین نایاب والدین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور وزیر صحت سندھ سے واقع کا نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوآدم کے علاقے جوہرآباد بسم اللہ کالونی کے رہائشی غلام مصطفی راجپوت کا آٹھ سالہ بیٹا محمد بلال جوکہ دوسری جماعت کا طالبعلم ہے جسے آوارہ کتوں نے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا محلہ کے لوگوں نے خطرناک کتوں کے چنگل سے بچے کی جان بچا کر اسپتال روانہ ہوگئے جہاں ڈاکٹروں نے ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے بچے کا علاج کرنے سے انکار کردیا متاثرہ بچے کے والد نے میونسپل کمیٹی کے سی ایم او غلام مصطفی سے مدد مانگی کہ اسکے بچے کے علاج میں مدد کی جائے والد کے مطابق میونسپل آفیسر نے صاف انکار کرتے ہوئے اسے آفیس سے باہر نکال دیا متاثرہ بچے کے والد نے صوبائی وزیر صحت، ڈی جی ہیلتھ سندھ، ڈپٹی کمیشنر سانگھڑ، اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈو آدم سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بچے کا سرکاری خرچے پر علاج کروایا جائے اور شہر بھر میں کتا مار مہم میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
![]()