کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد قوم پرستی کی تحریکیں کمزور ہوگئی ہیں۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے مضبوط معیشت والے صوبوں کو تو فائدہ ہوگا لیکن خیبرپختونخوا نقصان میں رہے گا۔ حکومت کے منی بجٹ سے لگتا ہے کہ انہیں بجٹ بنانا بھی نہیں آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پائلر کے کرامت علی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ وفاق کی یہ بات غلط ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں۔ اصل میں میں وہ اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہے۔ جی ایس ٹی کو صوبوں سے لینے کا کیا مطلب ہے صوبوں کی کارکردگی تو وفاق سے بہتر رہی ہے۔ صوبوں کو سہولیات نہ دینے سے وہاں تعلیمی شعبہ پیچھے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے مضبوط معیشت والے صوبوں کو تو فائدہ ہوگا لیکن خیبرپختونخوا نقصان میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ ناقابل عمل نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو علم ہی نہیں کہ یہ گھر کس طرح بنانے ہیں۔ اگر جامع منصوبہ بندی کی جائے تو بالکل 50 لاکھ گھر بنائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حالت تو یہ ہے کہ اسے بجٹ بنانا بھی نہیں آتا ہے۔ حکومت اگر اپنے اخراجات کم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے تو اس کی سزا صوبوں کو نہ دی جائے۔ این ایف سی اور 18 ویں ترمیم سے وفاق اور صوبے قریب ہوگئے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد قوم پرستی کی تحریکیں کمزور ہوگئی ہیں۔ ون یونٹ دوبارہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ جی ایس ٹی ٹیکس وفاق کے پاس جانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ڈائریکٹ ٹیکس 100 فیصد وفاق وصول کرے۔ کرامت علی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔ سندھ میں کچھ اور ہاتھ نہیں آیا تو اسپتال پر حملہ کردیا گیا۔ این آئی سی وی ڈی کی کارکردگی پوری دنیا کے سامنے ہے۔
![]()