ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) سائبر کرائم کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہراسمنٹ جب سائبر اسپیس میں آجاتی ہے تو اور بھی زیادہ خطرناک بن جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سائبر کرائم کے قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ کسی سے بات کے دوران اگر سامنے والا میسج کرنے سے منع کردے اور پھر بھی میسج کیا جائے تو یہ ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا تین سال قید ہے۔جبکہ جعلی پروفائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب فیک پروفائلز بنانا لوگوں کا مشغلہ بن چکا ہے لیکن اس پر کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ کسی کی تصویر استعمال کرنا یا فیک اکاؤنٹ بنانے پر بھی تین سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کی جانب سے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے شکایات درج کروانے کے لیے سائبر ویجیلنس ڈویژن کا شعبہ قائم کر دیا گیا ہے۔ تمام افراد ہراسمنٹ کے حوالے سے اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے خطرناک ہراسمنٹ یہ ہے کہ کوئی آپ کی تصویر یا ویڈیو کو فوٹو شاپ کر کے وائرل کر دے۔ اس کیس میں آپ کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا ایسا کرنے والا کون ہے۔ اس طرح کے کیسز کی وجہ سے طلاق کے بھی کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کی 4 ماہ میں 4 ہزار سے زائد درخواستیں سائبر کرائم سرکل کو موصول ہوئی ہیں، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور بینکنگ فراڈ کی شرح میں اضافہ ہوگیا، 4 ماہ میں سائبر کرائم سرکل لاہور کو 4 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ 988 خواتین نے بھی ہراسگی اور بلیک میلنگ کرنے والوں کے خلاف درخواستیں دیں، سوشل میڈیا پر بڑھتے کرائم نے سائبر کرائم سرکل لاہور کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ آن لائن ڈیٹا بیس اور سوفٹ ویئر بنانے کے بعد ان شکایات کے اندارج میں اضافہ ہوگیا۔
![]()