Home / آرٹیکل / کلبھوشن ہو یا شبیر, بھارتی جاسوسوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاۓ۔ تحریر: عمران عاطف چوہدری

کلبھوشن ہو یا شبیر, بھارتی جاسوسوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاۓ۔ تحریر: عمران عاطف چوہدری

کلبھوشن ہو یا شبیر بھارتی جاسوسوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاۓ

تحریر: عمران عاطف چوہدری

(پاکستان کی ڈائری)

بھارت کے ساتھ مفاہمتی سفارتکاری کے بجاۓ بھارتی جاسوسوں کی تختہ دار پر لٹکایا جاۓ کلبھوشن کے بعد اب ایک اور بھارتی جاسوس کے لئے بھارت کی کونسلر رسائی کی درخواست، بھارت کو اب دوٹوک جواب دیکر بھارتی جاسوسوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ 17 دسمبر 1999 کو میرپور آزاد کشمیر کے علاقے اسلام گڑھ کی ایک مسافر بس مرد، خواتین اور بچوں سمیت تیس سے زائد مسافروں کو لے جارہی تھی کہ اچانک اس میں خوفناک دھماکہ ہوا اور دور دور تک اس انسانی جسموں اور بس کے پرخچے اڑ گئے یہ دہشت گردی بس میں نسب کیے گئے ایک طاقتور بم سے کی گئی اس دہشت گردی میں 9 افراد موقع پر ہی اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے اور 22 کے قریب افراد اس دہشت گردی کا شکار ہوۓ۔ اس دہشت گردی کے واقعے کے بعد ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں آۓ اور اس دہشت گردی میں ملوث عناصروں کی سرکوبی اور تلاش کا کام شروع ہوا ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو جلد کی اس میں کامیابی ملی اور شبیر نامی شخص کو جاۓ حادثہ کے قریب سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ زخمی ہونے والوں کی چیخ و پکار سے لطف اندوز ہو رہا تھا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جب اس سے تفتیش کا آغاز کیا تو اس نے سنسنی خیز انکشافات کیے عین اسی طرح جس طرح کلبھوشن یادیو نے ایک ایک سچ اگل کر سامنے رکھا تھا۔ اسلام گڑھ کا یہ واقعہ ممکن ہے کہ آج ملک کے لوگوں کو یاد نہ ہو مگر لیکن اس دہشت گردانہ کاروائی میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین اور ورثا کے علاوہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے کبھی نہیں بھول سکتے ہیں۔ محمد شبیر ولد نتھے خان بھارتی شہری ہے جو مقبوضہ کشمیر ڈسٹرکٹ پونچھ کا مستقلاً رہائشی محمد شبیر1987 میں پاکستانی کشمیر میں جاسوسی کرنے، دہشت گردی کرنے جیسی کارروائیاں کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا جس نے دوران تفتیش اپنے سنگین جرائم کے اعترافات کئے، جن میں 17 دسمبر 1999 کو اْس نے ‘را’ کی ہدایت پراسلام گڑھ میں ایک بس میں بم دھماکہ کیا تھا جس میں 9 سے زائد افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، 20 سے زائد پاکستانی شدید زخمی ہوئے تھے، بھارتی جاسوس محمد شبیر کو پاکستانی دفعات 324 اے پی سی، 302/427، 337 اے کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا جس پر سیشن کورٹ میرپورخاص عدالتی کاروائی شروع ہوئی شواہد، ثبوتوں اور گواہوں کو سننے کے بعد عدالت نے اس بھارتی جاسوس کو سزاۓ موت کی سزا سنائی اس فیصلے کے خلاف بھارتی جاسوس محمد شبیر نے آزاد کشمیر سپریم کورٹ / شریعت عدالت میں اپنی سزاۓ موت کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے گزشتہ سال اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کی طرف سے بھارتی جاسوس ‘محمد شبیر’ جسے پاکستان کی میرپور آزاد کشمیر کی عدالت سے پاکستان کے شہروں میں کیئے گئے کئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے ثبوتوں کے بعد اُسے عبرتناک سزائیں سنائی گئی ہیں۔ یہ بھارتی ایجنٹ بھی آجکل ملکی آئین کے مطابق پاکستانی جیل میں اپنی سزائے موت کا منتظر ہے بھارتی سفارت خانے نے کلبھوشن یادیو کے بعد محمد شبیر تک بھی ’قونصلر رسائی‘ حاصل کرنے کے لئے ایک درخواست دی ہے، محمد شبیر 1987 میں پاکستانی کشمیرمیں جاسوسی کرنے، دہشت گردی کرنے جیسی کارروائیاں کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا جس نے دوران تفتیش اپنے سنگین جرائم کے اعترافات کئے، پاکستان کے کروڑوں عوام منتظر ہیں کہ حکومت پاکستان بھارتی سفارت خانے کی محمد شبیر نامی بھارتی جاسوس تک ’قونصلر رسائی‘ دینے کی درخواست پر جلد ازجلد فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک جواب کیوں نہیں دیتی چونکہ جاسوسوں کو دنیا میں کہیں بھی ’قونصلر رسائی‘ نہیں دی جاتی ہے، یہ معصوم انسانوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں، اُنہیں بم دھماکوں سے اُڑاتے ہیں وہ عبرت ناک سزاؤں کے عین مستحق ہیں۔ ملکی عوام اپنے دشمن ملک بھارت کے جاسوسوں کو چاہے وہ کسی ملک کے جاسوس ہوں اُنہیں عبرت کا نشان بنانے میں کوئی رُو رعایت کرنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ بھارتی جاسوس محمد شبیر نے 90 کی دہائی میں کئی درجن پاکستانیوں کو اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں میں موت کے گھاٹ اتارا، اُن شہدا اور بے گناہ مقتولین کے وارث آج تک اپنے پیاروں کے لئے انصاف کا انتظار کررہے ہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اُن شہداء کے لواحقین کی منشاء جانے بغیر مقبوضہ جموں و کشمیر کے رہائشی محمد شبیر جیسے ’را‘ کے پے رول پر پاکستانی مسلمانوں کے قاتلوں کو سہولتیں ملتی رہیں؟ ہماری وفاقی حکومت کو اِس بارے میں ’مصلحتوں کی سفارتی ڈپلومیسی‘ سے اب ہر قیمت پر پرہیز کرنا ہوگا، بھارت سے اب بھارت کی زبان میں حتمی بات کرنی ہوگی، پاکستان عالمی سطح پر ایک آزاد و خود مختار ذمہ دار ایٹمی ڈیٹرنس سے لیس اسلامی ملک ہے پاکستان کے اندرونی امن و امان اور پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کے پار ملکوں (بھارت اور افغانستان) کو سٹرٹیجک حالات کی سنگینی پر علاقائی امن و استحکام میں امریکا سمیت کسی بھی مغربی طاقت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اب خود فیصلے کرنے ہونگے ورنہ آنے والا وقت مزید ایسی ’سرد جنگوں‘ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے