ایتھنز (رپورٹ: ملک فیصل سمرالہ) عزا خانہ گلزار زینب کو توہین اسلام و قرآن پر مبنی دھمکی آمیز خط بھیجنے والے شخص کو ایتھنز کی اعلی عدالت کے پانچ رُکنی بینچ نے توہین مذہب، نقص امن، نسلی امتیاز اور دہشت پھیلانے کے جرم میں تین سال اور تین ماہ کی قید کی سزا سنادی، تفصیلات کے مطابق جمعہ 7 دسمبر کے روز ایتھنز کی اعلی عدالت نے دائیں بازو کی شدت پسند جماعت گولڈن ڈان (خرسی اوّگی) کے تائید یافتہ سابق پولیس آفیسر آخیلیاس بروتاس کو تین سال تین ماہ قید کی سزاسنا دی، مقدمے کی سماعت کے دوران مختلف سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت 26 گواہان نے بیانات قلمبند کرائے اورطویل سماعت کے بعد فرد جرم عائد کرتے ہوئے توہین مذہب اسلام و قرآن کے مرتکب کو کیفر کردار تک پہنچا دیا، جرم کی سزا پانے والا 55 سالہ بروتاس آخیلیاس سابق پولیس افسر ہے جوکہ اپنی سروس کے 30 سالوں کے دوران ایتھنز کے مختلف تھانوں میں بطور انچارج بھی تعینات رہ چکا ہے، مذکورہ شخص دینی مراکز کے علاوہ سیاستدانوں، اعلی سرکاری عہدیداروں، ججز اور صحافیوں کو دھمکانے اور کارتوس ارسال کرنے کے جرم میں بھی سیکورٹی اداروں کو مطلوب رہا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت کے احاطے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیئے گئے تھے تاہم عزا خانہ گلزار زینب کے منتظمین سے اظہار یکجہتی کیلئے انسانی حقوق کی تنظیمات کے نمائندگا ن بھی کمرہ عدالت میں حاضر تھے جبکہ گولڈن ڈان (خرسی اوّگی) کیخلاف مقدمہ لڑنے والے دیگر وکلاء بھی مقدمے سے جڑے افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے موقع پر موجود تھے۔
یاد رہے کہ سال 2013 میں مذکورہ شخص نے یونان کے دارلحکومت ایتھنز میں واقع چار مختلف دینی مراکز کو دھمکی آمیز خطوط ارسال کیئے تھے جس میں مذہب اسلام اور قرآن مجید کے بارے میں انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیئے تھے مگراحتیاطی تدابیر اپنانے کے باعث صرف عزا خانہ گلزار زینب کو بھیجے گئے دھمکی آمیز خط سے اس شخص کی ہتھیلی کے بائیو میٹرک نشانات حاصل ہوئے تھے جس پر اِس مقدمے کے مرکزی گواہ اور عزا خانہ گلزار زینب اور شیعہ مسلم کمیونٹی گریس کے بانی سید اعجاز حیدر رضوی مرحوم نے شدید دباؤ کے باوجود واضح اور دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری رکھا اور مقدمے کو انسداد نسلی امتیاز کے قوانین بجائے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد مجرم کیخلاف تحقیقات کا دائرہ تنگ ہوتا چلا گیا اور بالاخر 2017 میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ کیجانب سے اِس شخص کی گرفتاری عمل میں آئی۔ یونان میں مسلم عبادت گاہوں سے متعلق اپنی نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ ہے جس میں شاتمِ اسلام و قرآن کی نہ صرف ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتاری ہوئی بلکہ قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے، اِس تاریخ ساز فیصلے پر یونان میں بسنے والے دینی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو امت کی فتح قرار دیا ہے تاہم مسلم اکابرین کے مطابق اِس فیصلے کے بعد یونانی عدلیہ کے مقلدینِ اسلام کیساتھ منصفانہ معیار اور شیعہ مسلم کمیونٹی گریس کے مرحوم بانی سید اعجاز حیدر رضوی المعروف حیدر شاہ کی دُور اندیشی اور استقامت کو یونان میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائیگا،اس فیصلے کے بعد عزا خانہ گلزار زینب کے منتظمین کے حوصلے اور جرأت پر اُنہیں خراج تحسین کے پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔