تازہ ترین
Home / اہم خبریں / اعلیٰ عدلیہ سے گذارش کرتے ہیں کہ سارے سندھ میں بنی ہوئی پبلک وجیلنس کمینٹیوں کو اسٹینڈرڈائیز کرنے، فاریسٹ ڈپارٹمینٹ کی بحالی اور پروٹیکشن کی مانیٹر کرنے کے احکامات جاری کریں- انڈس ڈیولپمینٹ آرگنائیزیشن

اعلیٰ عدلیہ سے گذارش کرتے ہیں کہ سارے سندھ میں بنی ہوئی پبلک وجیلنس کمینٹیوں کو اسٹینڈرڈائیز کرنے، فاریسٹ ڈپارٹمینٹ کی بحالی اور پروٹیکشن کی مانیٹر کرنے کے احکامات جاری کریں- انڈس ڈیولپمینٹ آرگنائیزیشن

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب میں انڈس ڈیولپمینٹ آرگنائیزیشن کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ جنگلات جو جدید کارج کے مفہوم کے مطابق دنیا کی بائیو ڈائورسٹی اور ایکولوجی کو بیلینس رکھنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں، اور طوفانوں، فلڈ اور سمندر کی طرف سے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جو دنیا کے 31 فیصد رقبہ رکھتے ہیں، ایک سروے کے مطابق 2010 میں ان کا رقبہ 4033 ملین ہیکٹرایکڑ تھا، دنیا کے 500 ملین لوگ جنگلات پر براہ راست روزگار کے حوالے سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ پوری دنیا کی زندگی خوراک، پانی، صاف ہوا اور جڑی بوٹیوں کے حوالے سے ڈیپنڈنٹ ہے۔

جنگلات کاربان ڈائی آکسائیڈ کھا کر کاربان ہضم کرکے آکسیجن ہمیں فراہم کرتے ہین۔ پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ 4.22 ملین ہیکٹر ایکڑ ہے، جو کہ ملک کے ٹوٹل رقبے کا 4.8 حصہ ہے۔ جن میں دریائی جنگلات 7 فيصد، جس ميں سندھ کا حصہ نہ ہونے کے برابر اور 8 فيصد سمندری جنگلات، جن میں سندھ اور بلوچستان کے جنگلات شامل ہیں۔ سندھ جس کے پاس کبھی 787897 ایکڑ کچے اور پکے کے جنگلات تھے۔ جس میں کچا 605583، پکا 182314 ایکڑ تھا۔ کوسٹل 751063 اور رینج لینڈ 1319788 ایکڑ تھے۔ اب اس کے پاس کچے اور پکے کے جنگلات کا 90 فیصد حصہ ختم ہو چکا ہے، اور خالی زمینوں پر بااثر سیاسی لوگوں، بااثر وڈیروں اور کچھ لوکل غریبوں کا قبضہ ہے۔ جن میں کچھہ لیز کے نام پر باقی غیر قانونی قبضہ ہے۔ کچے اور پکے کئی حصوں پر روینیو کھاتے کی ملی بھگت سے غیر قانونی کھاتے بن چکے ہیں اور کئی جگہوں پر غیرقانونی الاٹمینٹ بھی ہوچکی ہیں۔ جس میں سانگھڑ ضلع کے کھپرو فاریسٹ رینج بڑی مثال ہے۔ پکے کے کئی جگہوں پر بااثر لوگوں نے ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں جن میں جامشورو اور نوابشاہ اضلاع کے جنگلات کی زمین سرفہرست ہے، کچے کی زمین ڈ یمارکیشن نہ ہونے کی وجہ سے لوکل زمینداروں کی طرف سے انکروچمینٹ ذریعے ذاتی زمینوں میں شامل ہو چکی ہیں۔ جنگلات کی ان زمینون پر کچھ بااثر قابضین کی ایراضی میں فاریسٹ کے لوکل عملے کو اندر آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ سندھ کے کچے اور پکے کے قبضوں کی ذاتی زمینون کی طرح خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس پورے عمل میں فاریسٹ کھاتے کا کچھ عملہ بھی ملوث پایا گیا ہے۔ سندھ کے کچے اور پکے کی تباہی مارشل لا دور سے شروع ہوئی جب ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں جنگلات کی کچھ تباہی ہوئی اور اس کی بحالی کے نام پر ایگرو فاریسٹری پالیسی 2004 میں متعارف کرائی گئی۔ فروری 2005 میں پالیسی نوٹیفائی ہونے کے بعد اس پالیسی کے تحت سیاسی اور بااثر لوگوں کو لیز دی گئیں۔ ان سیاسی لوگوں نے لیز کیلئے جنگلات کاٹنا شروع کردیئے اور 2010 تک 90 فیصد جنگلات لیز کے نام پر تباہ ہوگئے۔ اس طرح جنگلات کو بڑھانے کیلئے شروع کی گئی پالیسی جنگلات کی تباہی کا بڑا سبب بن گئی۔

سیاسی لوگوں نے 2010 میں فاریسٹ کھاتے کے کچھ افسران کے تعاون سے ایک یکسان اسکیم بھی شروع کی اور اس اسکیم کے تحت کھپرو، حیدرآباد، ٹنڈو الہیار، مٹیاری اور دوسرے اضلاع کی ہزارون ایکٹر ایراضی پر گھنے جنگلات تباہ ہوگئے۔ اس عمل میں شامل افسران کے خلاف انکوائری بھی ہوئی مگر انہیں کوئی سزا نہ ہوسکی۔ کچے اور پکے کے جنگلات کی تباہی اور زمینوں کی غیر قانونی الاٹمینٹ اور انکروچمینٹ کا بڑا سبب فاریسٹ ڈپارٹمینٹ میں سیاسی مداخلت اور کھاتے کے اندر ناقص گورننس ہے۔ انڈس ڈیولپمینٹ آرگنائیزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ری آرگنائزیشن کے نام پر فاریسٹ ڈپارٹمینٹ کو تباہ کرنے کے بجائے ڈپارٹمینٹ کی گورننس کو ٹھیک کیا جائے۔ جنگلات کی بحالی کیلئے سارے اسٹیک ہولڈرس کی کنسلٹیشن کے ذریعے پلان بنایا جائے اور اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ ایک مستقل فاریسٹ پروٹیکشن مکینزم بنایا جائے۔ ڈیلٹا کے لوگوں کو +آر ای ڈی ڈی پروگرام کی آگاہی دی جائے اور ان کو سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ کاربن کریڈٹ کے پیسے ان لوگوں پر خرچ کئے جائیں، منسٹری آف کلائیمیٹ چینج اور انسپیکٹر جنرل فاریسٹ کو گذارش ہے کہ کاربان کریڈٹس کے پیسوں پر نظر رکھیں کہ آیا وہ پیسے کمیونٹی پہ خرچ ہورہے ہیں کہ نہیں۔ فاریسٹ ڈپارٹمینٹ میں سیاسیی مداخلت کو روکنے اور گورنننس کو بہتر بنانے کیلئے سارے اسٹیک ہولڈرس جن میں لوکل کمیونٹی بھی شامل ہوں، ایک اسٹیک ہولڈرس فورم بنایا جائے جس کا کردار بحالی سے لیکر مستقل پروٹیکشن، کاربن کریڈٹس کو بیچنے تک کے عمل میں شامل کیا جائے۔ فاریسٹ لینڈس کو محفوظ کرنے کیلئے جی آئی ایس میپنگ اور ڈیمارکیشن کی جائے، جس کا حکم پہلے ہی معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کر چکی ہے۔

ہم سپیریم کورٹ آف پاکستان کو گذارش کرتے ہیں کہ فاریسٹ کے کیس چلانے کیلئے دنیا کے دوسری ملکوں کی طرح الگ گرین بینچز بنائی جائیں، تاکہ فاریسٹ کے کیس جلدی نمٹائے جاسکیں۔ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کو گذارش کرتے ہیں کہ سارے سندھ میں سیشن جج صاحبان کی سربراہی میں بنی ہوئی پبلک وجیلنس کمینٹیوں کو اسٹینڈرڈائیز کرنے اور ان کو فاریسٹ ڈپارٹمینٹ کی بحالی اور پروٹیکشن کی ساری سرگرمیون کو مانیٹر کرنے کے احکامات جاری کریں۔ درخت دھرتی پر رہنے والی ہر زندگی کی ضمانت ہیں۔ درخت کا قاتل دھرتی اور زندگی کا قاتل ہے۔ لہذا ڈی فاریسٹیشن اور فاریسٹ لینڈ کے قبضے میں ملوث ہر شخص کو کسی بھی الیکشن، عوامی/سرکاری عہدے کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے