تازہ ترین
Home / اہم خبریں / دنیا کی ایک ایسی وکیل جس نے دنیا کے کئی ممالک میں کیسز لڑے مگر اب تک ناقابل شکست ہے کون ہے یہ ؟ کس ملک سے اس کا تعلق ہے ؟ پڑھیں اس خبر میں

دنیا کی ایک ایسی وکیل جس نے دنیا کے کئی ممالک میں کیسز لڑے مگر اب تک ناقابل شکست ہے کون ہے یہ ؟ کس ملک سے اس کا تعلق ہے ؟ پڑھیں اس خبر میں

کیا آپ جانتے ہیں یہ کون ہے یہ وہ وکیل لڑکی ہے جس نے آج تک اپنی زندگی میں کوئی ایک کیس بھی نہیں ہارا ، امریکہ کے ایئر پورٹ پر جب یہ قدم رکھتی ہے تو ایئر پورٹ کے افسران اور انتظامیہ کے افراد لرزنے لگ جاتے ہیں، دنیا کی کسی ملک میں بھی جاتی ہے تو وہاں کی انتظامیہ ہل جاتی ہے، امریکی صدر ڈونالڈ ڈک ٹرمپ کے خلاف جب مشہور امریکی پراسیکیوٹر رابرٹ میلر جن کے پاس خود وکیلوں کی ایک پوری آرمی ہے نے کچھ دن پہلے مقدمہ شروع کیا تو اس کو اپنا آپ اکیلا لگا، نیویارک ٹائمز ہے لکھتا ہے کہ ٹرمپ پر الزامات ثابت کرنے کے لیے مجھے اس دنیا کا لائق ترین دماغ چاہئے ٹرمپ کو میں اکیلے عدالت میں زیادہ وقت کھڑا کرسکتا ہوں لیکن اسکو جیل نہیں بھیج سکتا، صحافی نے پوچھا کہ آپ تو دنیا کے جانے مانے اور نہایت قابل وکیل ہے کیا کوئی آپ سے بھی زیادہ وکالت میں ہوشیاری اور تجربہ رکھتا ہے، رابرٹ نے کہا، ہاں ایک پاکستانی لڑکی ہے جو اپنی زندگی کا کوئی کیس نہیں ہاری میں انکو اپنی انویسٹیگیشن ٹیم کا حصہ بنانا چاہتا ہوں. میں 68 سال کا ہوچکا ہوں اور زندگی شاید ختم ہے لیکن میں مرنے سے پہلے زینب احمد کو ٹرمپ پر مسلط کروں تب ٹرمپ کو علم ہوجائے گا کہ رابرٹ نے اسکے ساتھ کیا کیا ہے ،، زینب احمد سے جب اس حوالے سے پوچھ لیا گیا تو زینب نے وہی پاکستانی طریقے سے ایک ہی جملے میں سب کہہ دیا ” جب میں نے کیس لیا تو ٹرمپ کو بھی دیکھ لوں گی میں نے انکا نام سنا ہے وہ شاید یو ایس کے صدر ہیں” ان سے ملیں، انکا نام زینب احمد ہے پاکستان کی شہری ہے جن کو امریکی نیشنیلٹی حاصل ہے، 38 سال کی عمر ہے اور آج تک ایک بھی کیس نہیں ہاری، انہوں نے امریکہ روس، جاپان، ترکی، ملائشیا، برطانیہ، سعودیہ، ہالینڈ اور مزید کئی ممالک میں الگ الگ نوعیت کے کیس لڑے ہیں، اور کسی بھی ملک میں ایک بھی کیس نہیں ہاری، یہ ہے اورینجل پاکستان کی بیٹی،،۔

بشکریہ: ملک فیصل سمرالہ

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے