Home / آرٹیکل / بلوچستان میں خواتین کی معاشی ترقی کا رجحان تحریر: ہمان بیگم

بلوچستان میں خواتین کی معاشی ترقی کا رجحان تحریر: ہمان بیگم

بلوچستان میں خواتین کی معاشی ترقی کا رجحان

تحریر: ہمان بیگم

بلوچستان وطن عزیز کا ایک انتہائی اہم اور حساس ترین صوبہ ہے- پاکستان میں جس قدر قدرتی معدنیات ہیں ان میں زیادہ تر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پی جاتی ہیں- ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 50 معدنیات سے معدنی دولت حاصل کی جارہی ہے جس میں 40 معدنیات صوبہ بلوچتان میں موجود ہیں- یہ وہ معدنیات ہیں جن کو تلاش کرلیا گیا ہے جبکہ ابھی بہت سی اہم ترین معدنیات ہیں جن کو تلاش کرنے کا کام ابھی باقی ہے- بلوچستان کو تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے- اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی طور پر مشکل نہ ہوگا کہ یہ معدنی وسائل بلوچستان کے عوام پر کس قدر اثر انداز ہورہے ہیں اور مستقبل میں ان معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت بلوچستان کے عوام کی طرز معاشرت میں کس قدر تبدیلی لانے کا موجب بنے گی اس پر فوری طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ جب ترقی عوام کو حاصل ہوگی تو صوبے کی خواتین بھی اس سے پوری طرح مستفید ہونگی- تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو خواتین کی معاشرے میں معاشی ترقی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہونگے- اس کے لئے بلوچستان کے حالت کا بغور مطالعہ ہوگا تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ تئیس لاکھ (12.34) ملین سے زیادہ ہے اور شرح خواندگی باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے اسی تناسب سے صوبے کی خواتین کی شرح خواندگی انتہائی خراب ہے- اگرچہ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے لیکن صوبے کو معدنیات کی تلاش کے حوالے سے بہت حد تک نظر انداز کیا گیا ہے اور یہ رویہ بلوچستان کے ساتھ اب کسی نہ کسی سطح پر جاری ہے- یہہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے ان قدرتی معدنی وسائل پر کنٹرول کا مطالبہ کرتے ہیں جوکہ ان کا جائز مطالبہ ہے- صوبائی خودمختاری کے عقب میں بڑے بڑے منصوبوں میں صوبے کا جائز حصہ رکھنے کا تقاضہ ایک قدرتی امر ہے- بلوچستان گونا گوں مشکلات سے دوچار ہے جس میں انتہا پسندی، دہشت گردی، غربت، بےروزگاری، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کا نہ ہونا ایک المیہ ہے- شرح خواندگی میں کمی سوے کے معاشی اقتصادی اور سماجی حالات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے- یہ ہی وجہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں بلوچستان کی خواتین اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بھی بہت پیچھے رہ گئی ہیں- اب جب ہم بلوچستان کی مجموعی ترقی کا ذکر کریں گے تو ہمیں خواتین کی شرح خواندگی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کس طرح وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق بلوچستان کی خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا ہے اور پھر ان خواتین کو کچھ ہنر سیکھایا جائے تاکہ وہ اپنے خاندان کے لئے بہتر مالی وسائل فراہم کرسکیں- اس کے ساتھ ساتھ خواتین سماجی انصاف، امن کی بحالی اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں- کیونکہ کوئی بھی معاشرہ عورتوں کی ترقی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا- بلوچستان کے پس منظر میں صوبے کے تمام علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جائے- شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے اسکول کھولے جائیں جہاں تدریس کے سرے عوامل کو بہتر طور پر پورا کیا جائے- ان تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ترویج کے لئے ووکیشنل ایجوکیشن پر توجہ دی جائے اس کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آگاہی کے لئے ادارے بناۓ جائیں تاکہ بلوچستان کی خواندہ عورتیں مواصلات کے جدید نظام سے آگاہی حاصل کرسکیں- اسی شعبے میں ٹیلی وژن، موبائل فون اورکمپیوٹر ٹیکنالوجی کی تربیتی سہولتیں بلوچستان میں ترقی کے نئے باب کھولے گی- اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں کاروباری تربیت دی جائے- بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بہترین پھل پیدا ہوتے ہیں ان پھلوں کی درآمدی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوۓ تربیت دی جائے اس طرح عورتیں مردوں کے مقابلے میں بہتر کاروباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتیں ہیں- بلوچستان کے ثقافتی لباس کی مارکیٹنگ کی تربیت اور کاروباری امور سے آگاہی عورتوں کو مردوں کے مدمقابل زیادہ اہمیت حاصل ہوسکے گی اس کے علاوہ عورتوں کو سائنسی اور فنی علوم کی تربیت دیکر عورتوں کو مردوں کے مساوی کھڑا کیا جسکتا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے مقابلے میں اہمیت دی جائے تاکہ معاشرہ بھرپور ترقی کرسکے

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے