کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) مفکر پاکستان ڈاکٹرعلامہ اقبال نے اپنی شاعری سے پاک و ہند کے لوگوں کی فکر کو تبدیل کیاآپ نے معاشرے کی ناصرف اصلاح کی بلکہ اپنی شاعری سے افرادکی ذہنی وفکری تربیت فرمائی۔ ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم اقبال پر میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا انہوں نے کہا ہے کہ دورحاضر کاتقاضا ہے کہ ہم ان کی انقلابی وفکری شاعری کی ترویج اور اس پرعمل کرنے کی سعی کریں اپنے اندر خودی پیدا کریں جوکہ ہماری قومی غیرت و حمیت کی ترجمانی کر سکے۔ اقبال کے خوابوں کی حقیقی تعبیر بنانے کے لیے ہر شخص کواپنا انفرادی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کی جدوجہد محض کسی زمینی ٹکرے کے حصول کے لیے نہ تھی بلکہ ان کے پیش نظر ایک ایسے ملک کا حصول تھا جہاں نظریہ اسلام کے مطابق ہر کسی کو آزادنہ زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہو۔ ایک ایسی مملکت جہاں کسی تفرقہ بازی، انتہا پسندی اور عصبیت کی قطعاََ گنجائش موجود نہیں۔ آزادی کے بعد بدقسمتی سے ایسے حکمران اس ملک کے حصے میں آتے رہے جنہوں نے اقتدار کو ملکی ترقی و استحکام کی بجائے ذاتی منفعت کا ذریعہ بنائے رکھا۔ قرار داد مقاصد اس امر کا تقاضہ کرتی تھی کہ اس ملک کے باسیوں کو قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر ہوں اور اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ملے۔ ملک میں بسنے والے ہر طبقے کے جائز حقوق کا تحفظ ریاست کے ذمے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اس ملک میں ایسے تکفیری گروہوں کو پروان چڑھایا گیا جنہوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے اس ملک کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی سا لمیت و استحکام باہمی احترام اور اخوت و اتحاد میں مضمر ہے جس کے فروغ کے لیے سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے ہر شخص انفرادی طور پر تجدید عہد کرے کہ وہ اس ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا یہ وطن ہمارے لیے اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ نعمتوں کی نا قدری کفر کا زینہ ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وطن عزیز کوبیرونی مداخلت سے پاک کیا جائے یہی اصل آزادی اور تمام مسائل کا حل ہے۔
![]()